پاکستانی سماج ، میں نفسیاتی امراض میں شدید اضافہ ہو رہا ہےn ( اب مجھے ہی دیکھ لو )
، لاک ڈاون سے پہلے بھی ہو رہا تھا، لاک ڈاون میں بس باہر آگیا ہے
پوائنٹ یہ ہے کہ ، کیا اس نفسیاتی معاشرے میں ، ماہر نفسیات ، نارمل ہوگا ؟
وہ بھی اسی غیر فطری سماج کا حصہ ہے ، اس کی ذہنی صحت کی سکروٹنی بھی اتنی ضروری ہے ، کیوں کہ ماہر نفسیات کا نفسیاتی پن، عام ، آدمی سے کہیں خطرناک ہوسکتا ہے ، آسان زبان میں سمجھ لیں ، ایس ایس جی کمانڈو ، یا ، کسی ٹاپ کلاس ایجنسی کا بندہ ، اگر دہشت گرد بن جائے تو کیا ہو؟
یا آپ کے خون کے سفید خلئیے جو کہ آپ کا دفاعی نظام ہوتے ہیں ، وہی آپ کے جسم کو تباہ کرنے لگیں تو کیا ہوتا ہے
بس ، نفسیاتی امراض کے ماہر کا ، خود ہی مریض ہوجانا بھی عین ممکن بلکہ زیادہ متوقع ہے ، کیوں کہ ، یہ لوگ ، لاجکل میں کھیلتے ہیں اور سوسائٹی سے لاجک تیل ہوری ہے، ہوچکی ان فیکٹ ، سو یہ لوگ کتنا سہہ سکتے ہیں ؟nnبہرحال ، اس کو یوں بھی سمجھ لیں کہ نفسیاتی امراض ، پاگل پن نہیں ، بلکہ عام بیماری جیسے ہیں ، بخار ، نزلہ کھانسی ، بس یہ سب ہو دماغ میں رہا ہوتا ہے ، یعنی دماغ ، بیمار ہوجاتا ہے ، سوچیں ، زخمی ہوجاتی ہیں ، جسمانی درد نہ سہی لیکن ، دماغی پریشانی بڑھ جاتی ہے ، پھر ، وہ بندہ ، اطراف کے لیے دماغ کا بخار بن جاتا ہے nخیر ، اگر ایسا ہی ہے تو ، لوگ یہ کہہ سکتے ہیں ، کہ نفسیاتی امراض کا ماہر کیسے نفسیاتی ہو سکتا ہے
بالکل ویسے ہی جیسے ، کورونا میں ڈاکٹرز سب سے زیادہ رسک ہر ہوتے ہیں تو
ماہر نفسیات کو بھی چاہئے ، اپنی بیٹری چارج کرواتے رہیں ، بجائے ، خود کو اعلی ارفع کرقرار دے کر ، دوسروں کی کہانیاں کرنے کے
ورنہ
grandiose delusional disordernnبولے تو ، خبط عظمت
عام آدمی نے بھی پڑھ ہی رکھا ہوتا ہے ، لول nاور ، پاکستانی معاشرے میں nماہر نفسیات تو nNarcissim nکا سب سے زیادہ شکار ہو سکتا ہے nلائک میں بالکل صحیح ہوں مجھے کیا ہونا ہے
باقی سب پاگل ہیں
میں تو خود ڈاکٹر ہوں
میں مکمل طورپر ٹھیک ہوں وغیرہ وغیرہ ۔۔
پوسٹ – 2020-07-18
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد