وہ ہم سفر تھا ، مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی -nnاس شعر میں شاعر کی محبوبہ ، اسے محض اوپر اوپر سے کرنے دیتی تھی – nnجیسا کہ آگے چل کر ، شاعر نے اعتراف بھی کیا ہےnnکہ دھوپ چھاوں کا ، عالم رہا nجدائی نہ تھی ، nnشاعر کا ماننا ہے کہ ، وہ ملن کس کام کا جس میں جدائی نہ ہو۔ nnگڈ ایوننگ

اترك رد