صبح صبح ، قرآنی آیات کی گونج سے ، کاروبار کا آغاز کرو – nاس کے بعد ، سارا دن، شرعی حلیہ ، یہ لمبی ساری ڈاڑھی ، گٹھنوں تک پہنچی شلوار ، ناف تک چڑھا ازار بند ، ماتھے پر ، محراب کا تمغہ ، زبان ، ذکر اللہ رسول سے تر (جب تک ، دکان پر گاہک نہ آجائے) ،اور جب گاہک آجائے تو قسمیں کھا کھا کر ، غیر معیاری ، اور بے جا منافع پر ، مال بیچو
اور رات کو فیس بک پر n”امریکہ اور خان مل کر ہماری مار رہے ہیں “n”یہ سب ہمارے اعمالوں کی سزا ہے”nکہہ کر ، سوجاوnnیہ منافق مذہب پسند جو مذکورہ بالا کام کرتے ہیں ، درحقیقت ، اسلامی شعائرکو لگا ہوا ، مہلک ترین وائرس ہیں -nویسے بھی انسانی جسم/ فطرت کے لیے ، دین (مذہب نہیں ) ایک ، دفاعی نظام ہے ، اور nیہ مذہب زدہ دھوکے باز ، اس دفاعی نظام کا کینسر ہیں -nہاں ، یہ درست ہے کہ ، بیرونی سازشیں جھوٹ نہیں ( اور وہ تو، ازل سے ابد تک چلتی رہیں گی) ، وہ تو عدو مبین ہیں ، ان کا پیپر تو آوٹ ہے ، کہ وہ کون ہیں ، اور ان سے کیسے بچنا ہے ، پر ،ان کینسر سیلوں کا کیا ، جو ، مذہبی لبادے میں ، جڑیں کاٹ رہے ہین ، nان کا اور بیرونی سازشوں کا معاملہ بس اتنا سا ہے کہ
، اگر کوئی کینسر سیل ، ہر مسئلے کی وجہ کورونا کو الزام ٹہرانا شروع کردے تو ، کیا کینسر سیل کی اپنی ہلاکت خیزی کو اگنور کردینا چاہئے ؟ nاس سوچ سے نکلیں کہ ، صرف شرعی حلیہ اپنا کر ، آپ صاف ستھرے ہو سکتے ہیں nیہ سوچ اٹ سیلف بربادی کا سبب ہے کہ ، شرعی حلیہ اپنا لو ، اندر خود بہ خود نیکی کاشت ہوجائے گی nnحلیہ ، کھانے کی ، سجاوٹ ہو سکتا ہے ، گارنشنگ ہو سکتا ہے ، اس میں ویلیو ایڈ کرسکتا ہے ، لیکن ہرگزہرگز ، وہ کھانے کی تاثیر کا مقابلہ نہیں کرسکتاnn- ویلکم ٹو پاکستان
پوسٹ – 2020-07-21
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد