قرآن کا فلسفہ یہ ہے کہ ، nبنیادی ہدایات ، انسان کے اندر/دل پہلے سے موجود ہیں ، یہ جو الہامی علم ہے ، یہ انہیں ایکٹی ویٹ کرتی ہے ، nوہ جو اندر کی ، nDormant Consciousness ہے nاندر کے جو خوابیدہ شعور ہے ،قرآن مجید / الہامی علم ، اسے اجاگر کرتا ہے nہر سلیم الفطرت اور سلیم العقل ، انسان
دو سلامتیاں شرط ہیں ، nسلیم الفطرت
یعنی nNature Pervertednیعنی فطرت مسخ نہ ہوگئی ہو nnدوسری شرط
عقل سلیم ہو
تو ان دونوں چیزوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے ۔nnکہ وہ انسان از خود ، بغیر کسی وحی کی رہنمائی کے ، ، بغیر کسی نبی کی تعلیم سے استفادہ کیے ہوئے ، از خود بھی کچھ حقائق تک پہنچ جاتا ہے nاور وہ حقائق کیا ہیں ، nnویہ یہ ہیں کہ nاس کائنات کا ایک خالق ہے اور وہ ایک ہے
اور وہ تمام صفات کمال سے متصف ہے nنمبر دو
یہ کہ nانسان کی زندگی صرف یہ زندگی نہیں ہے، جس میں اس زندگی کے اعمال کے نتائج برآمد ہوں گے ۔۔nn- ڈاکٹر اسراراحمدnnنوٹ: اگر آپ کسی ٹیکنیکل خصوصا آئی ٹی وغیرہ فیلڈ سے وابستہ ہو اور یہ مشکل باتیں سمجھ نہیں آئیں تو، آپ کی زبان میں nn”اس اندر ہی اندر والے ہدایات کو”nnBIOSnChipset SoftwarenFactory Settings nShell nکچھ بھی کہہ سکتے ہیں
اور الہامی علم کو ، nآپریٹنگ سسٹم nڈرائیور سافٹ وئیر nبھی سمجھ سکتے ہیں
اور پہلے سے موجود ، کوڈز ، جب ، الہامی علم کے ساتھ مل کر کام شروع کرتے ہیں تو
اس عمل کو ، آپ کی زبان میں nہارڈ وئیر / سافٹ وئیر ، بیک ورڈ اینڈ فارورڈ کمپٹیبلٹی کہا جاسکتا ہے 😉
پوسٹ – 2020-07-21
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد