گفتگو کے فن پر ، پانچ پانچ سو صحفات کی کتابیں ہیں ، مخاطب کی نفسیات ،اس کے ٹریک ریکارڈ ، کردار کو سمجھ کرnn(یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے ، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے یہ والی ذہنیت نے محض دھوکے باز ،منافق ، اور می نی پولیٹو افراد ہی پیدا کے ہیں ۔ )nخیر ، ، مخاطب کی نفسیات ،اس کے ٹریک ریکارڈ ، کردار کو سمجھ کر
اس کی نیت کیا ہوسکتی ہے ( نیت نہیں جان سکتے ، کریکٹر پروفائل سے ، اندازہ کیا جاسکتا ہے)۔
یہ سب سمجھتے ہوئے ، اس کے مدعے کو ، یا اپنے اس کے ساتھ ہوئے اختلاف / تنازعے کو۔
کو سمجھ کر ، امن پسندی کے ساتھ ، ڈیل کرنا ، اس کی عزت خراب نہ ہو ، اور اسے ، اپنی عزت خراب نہ کرنے دو ، یہ ایک پورا شعبہ ہے نفسیات کا nجسے nConflict Resolution nnکنفلکٹ ریزولوشن کہتے ہیں ، nجس کا ایک ذیلی موضوعnAssertiveness nہے ، nnہم میں سے کتنے افراد ہیں ، جو اجتماعی طور پر ، اس علم کو ، پڑھے ، سیکھے ، سمجھے اور آزمائے ہوئے ہیں ؟nnجس کا ایک بہت ہی چھوٹا سا حصہ ہے کہ nدوران گفتگو ، کون سے ایسے ، فیکٹرز ہیں جو ، کنورسیشن ، بلاک کردیتے ہیں nکون سے جملے اوائڈ کرنے چاہہیں وغیرہ وغیرہ، nان کی تعداد بارہ ہے ، جسے ابلاغی غارتگر کہتے ہیں nہم میں سے کتنوں نے یہ سب پڑھ رکھا ہے اور اپلائی کیا ہے
پڑھنا کافی نہیں ، پر اپلائی کرنے کے وقت بہت حوصلہ چاہئے ہوتا ہے
ہمارے لیےn”کم بولو” والی نٰصیحت فارورڈ کردینا نسبتا زیادہ آسان ہے لول nبہرحال ، nکتنوں کو معلوم ہے کہ ، nاپنا موقف ، دوسرے کی عزت خراب کیے بغیر رکھنے کے مطلب ، جعلی سلامتیوں اور مٹھاس کی برسات نہیں ہوتا۔
بلکہ nاگر سامنے والا ، آپ کی پرسنل سپیس بارہا غارت کررہا ہے تو
اس سے سمجھانے کے لیے دو سٹرکچر ہوتے ہیں
پہلے سٹرکچر میں ،
جملے کو ، تین حصوں میں تقسیم کر کے ، ترتیب وار، احتیاط سے سامنے پلیس کیا جاتا یے ( اور گرما گرم گفتگو میں یہ انتہائی دشوار ہوتا ہے) اس کی ٹریننگ ، ہوتی ہے باقاعدہ خصوصا دو بدو گفتگو میں ، nاور دوسرا سٹرکچر ،
اپنی بات کو ، چھ حصوں / فلٹر سے گزار کر ، سامنے والے کو سمجھانا ہوتا ہے
اور ، اس سٹرکچر کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے ، جب ، پہلا والا کام نہ کرے ( بندہ باز نہ آرہا ہو ، آپ کو اشتعال دلوانے سے ) nاور یہ دوسرا سٹرکچر ، انتہائی مشکل ہے ، کیوں کہ اس میں کم از کم ، nپانچ یا چھ بار ، سامنے والے کی نیگٹو بکواس سن کر ، اس کی ساری منفی چیزیں
مثلا ، nبات کاٹنا
مدعا ادھر ادھر لے کر جانا
زبانی کلامی بدتہزیبی کرنا
سوال گھوڑا جواب روڑا(پتھر) دینا nجوابی الزام تراشی nوغیرہ وغیرہ ، nیہ سب اور اس طرح کی بہت سی منفی ذلالتیں ، آپ کو ، پانچ سے چھ بار تحمل سے سن کر ، اس زہر کی nreflective listening nکرنی ہوتی ہے ، بغیر ، مشتعل ہوئے nاب nreflective listening nایک پورا الگ مضمون ہے nسو یہاں پر بات کو روکتا ہوں اور دوبارہ اسی سوال پر آتا ہوںn( اس عمر میں بس سوال پر ہی آسکتا ہوں – :'( -)nخیر تو سوال یہ ہے کہ nnہم میں سے کتنے افراد ہیں ، جو اجتماعی طور پر ، اس علم کو ، پڑھے ، سیکھے ، سمجھے اور آزمائے ہوئے ہیں ؟nnاور جب ہمیں اس کا ککھ کنڈا علم نہیں ، تو ہم ٹاک شو دیکھ دیکھ کر ، گالیاں ہی دیں گے اور کیا کریں گے 😉 nخیر ازراہ تفنن یہ بھی بتائے گا کہ nپرسنلی ، کیا آپ نے کبھی کسی ماہر نفسیات کو اشتعال دلوا کر ، اس کے منہ سے کف جاری کروا کر ، اپنے لیے گالی نکلوائی ہے ؟nnنوٹ: دو روپے کی ڈیزائن پر ہوئی ،آٹھ آنے کا اقوال ذریں لکھ کر ، شئیر کرنے کو سیکھنا نہیں کہے
پوسٹ – 2020-07-21
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد