وقولو قولا سدیدا nقرآن کا حکم ہے، nجس کا مطلب ہے
ٹھیک بات کیا کرو
اس مہفوم ہے ، اپنی بات ٹھیک اور راست رستے سے بیان کردو
اس کا مفہوم یہ ہے کہ ، بات ٹھیک ہے تو معذرت خواہانہ انداز ، اگر مگر چونکہ چنانچہ کے بجائے پراپرلی کہہ دو ، جو بات جیسی ہے ویسی بیان کردو ، اس میں مصلحت کوشی جو دراصل پاکستانیوں نے ، بزدلی کا نام رکھا ہوا ہے ، مروت کو مصلحت کوشی کہتے ہیں ، nتو اس آیت میں مروت کو سٹریٹ اوے ریجیکٹ کیا گیا ہے
دوسری بات ، کبھی سوچا ہے ، کہ ، nستر ماوں سے زیادہ پیار کرنے والے ، رب نے ، nسورہ توبہ کہ شروع میں بسم اللہ کیوں نہیں نازل کی ؟
اس میں ، سخت الفاظ کیوں استعمال کیے ہیں ؟
اب کوئی ، اگر مگر چونکہ چناچہ کا غلام یہ کہہ سکتا ہے وہ کافروں کی بات ہو رہی ہے ، nتو اس ، کو پہلے سے بتا دیا جائے کہ nکفر در اصل ، باطل کی شکل ہے ، اصل چیز باطل ہے nباطل کو رسوا کرنے اس رب نےء بھی کیا ہے ، جس کی یہ مخلوق ہیں
اور باطل ضروری نہیں کافر ہی ہو ، ہر وہ شخص بطل کا شکار ہے ، جو حق بات کو مروت میں لپٹے بغیر نہیں کہہ سکتا
یہ میٹھے اس لیے نہیں بنتے کہ ، اسلام کا حکم ہے ، یہ میٹھے اس لیے بنتے ہیں کہ ان کا اپنا امیج خراب نہ ہو ، اور یہ ذہنی بیماری ہے ، شریعت نہیں nآخری بات یہ کہ ، انہیں ، وہ ساری احادیث اور آیات یاد ہیں ، جس میں نرمی ہیں nلیکن ، وہ نہ پڑھیں گے نہ ریفر کریں گے جس میں باطل کے لیے سختی کا بیان ہے nتو در اصل یہ فاسق بھی ہیں کہ اسلام کو ادھورا پڑھاتے ہیں
ابے تم ، کیا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی سے زیادہ ، دین کو سمجھتے ہو ؟
زندہ قوم ،اسلام کا قلعہ ، لول
پوسٹ – 2020-08-20
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد