کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ ، کینسر دراصل ، اپنے ہی خلیوں کی بغاوت ہوتی ہے
خصوصا ، ایک قسم کے کینسر ، شاید بلڈ کینسر میں یہ ہوتا ہے کہ nوائٹ بلڈ سیل ، جو کہ ، ڈیفینس کا کام کرتے ہیں ، یعنی قوت مدافعت ، مہیا کرتے ہیں
وہ ابنارملی گرو اپ کر جائیں ، اور وہ بھی کچے پکے آدھے ادھورے تو
وہ ، باقی خلیوں کی ہی ڈھولکی پیٹنا شروع کردیتے ہیں
اگر یہ ٹھیک ہے تو
اندازہ کریں ، اگر کوئی شخص ، بات بات پر ، دفاع کرنے وکالت کرنے یا ڈیفنسو ہوجاتے ہیں
ہر کیس کے سامنے ، پروونگ دی پوائنٹ پر چلے جاتے ہیں
تو آپ کی نفسیات آپ کےلیے کینسر نہیں بن جائے گی ؟
اگر آپ ذہن سے پالشیے نہیں تو ڈیفینش وہیں کریں گے نا ، جہاں دشمن / بیماری کے حملے کا خطرہ ہوگا nنہ کہ ، ڈی ایچ اے میں n؟
بہرحال ، یہ جو علم نفسیات میں ،
ڈینائل موڈ ہے ، یہ ڈیفینس مکینیزم ہے nاس ڈفینس میکنیزم کو بار بار ، ہر بار ، ایکٹی ویٹ کرنے سے ، آپ کو وقتی فائدہ ہوتا ہے nاندر ہی اندر ، آپ ناسور پال رہے ہوتے ہیں
جب کہ ، پر و ایکٹو، ایکٹو ، یا اگریسو ، میکینزم ، ایکٹویٹ ( ہر وقت نہیں ) رکھنے سے ، نفسیات صحت مند رہتی ہے
کیوں کہ ، پرو ایکٹو ہونا دراصل ، ایک ویکسین ہے nجسے اپنی شخصیت کے گرد باونڈریز کھینچنا کہتے ہیں
کہ ، کوئی کچھ کہنے کی جرات ہی نہ کرسکے ، نہ کرے گا نہ ڈیفینسو پر جاو گے nشاید اسے ہی مومن کی فراست کا نور کہا گیا ہے
ناٹ شیور ۔۔ باقی ، علما ، ڈاکٹر ، نفسیات دان ہی بتا سکتا ہے ۔۔
پوسٹ – 2020-08-22
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد