پوسٹ – 2020-08-22

سوسائٹی سمجھنی ہے ؟
دور جاہلیت کو آج کے معاشرے کمپئیر کرکے دیکھو nاگر زندہ قوم ہے کہ نشے سے باہر نہ آگئے تو ، کہنا
کمپئیر کرنے کی چیزیں
بت پرستی کو روایات پرستی سے
لوگ کیا کہیں گے کو ،انانیت بھرے شرک سے nفیمینیزم کو زندہ گاڑی لڑکیوں سے nقوت فیصلہ کے فقدان کو کھل کر نہ بول سکنے سے nمیں جانتا ہوں یہ نبی ہیں پر مانوں گا نہیں -n ابو جہل کے اس جملے کو ، آزادی اظہار رائے (جو بنیادی طور پر ، بربادی صائب الرائے ہے) سے کمپئیر کرلیں یا پھر کسی بھی بت پرست فرقہ پرست سیاسی تنظیم کے انا کے کھونٹے سے بندھے جانور کی باتوں سے ۔
میڈیا/نیٹ فلکس وغیرہ کو لہو الحدیث ( وہ افراد جو ، صراط مستقیم پر بیٹھ کر ، قصے کہانیاں سناتے تھے کہ ، لوگ ، دربار نبوی سے ڈسٹریکٹ ہو کر ، کہانیوں میں کھوئے رہیں nاسی طرح سوچتے چلے جائیں
تو جاہلیت کے قصے کہانیاں ، داستان نہیں ، حقیقت نظر آنے لگیں nیہ کائنات ایک کہانی ہے ، جو ہر دور میں ، استعاراتی انداز میں کردار ، اور واقعات بدل بدل کر ، ایک ہی انجام کی طرف گامزن ہے ۔
اس میں کیوں کیا ، کب کیسے ، ہم کیسے مان لیں ، کہ خدا ہے ، یہ سب قصے کہانیاں ہیں ، ہم نہیں مانتے کرنے والے nجب بگ بینگ کو حقانیت سمجھتے ہیں تو
آپ کو ، انسانوں کے بندر بن جانے کا واقعہ بھی سمجھ آنے لگتا ہے nجانوروں کے حقوق کو کمپئیر کرنا ہے تو ، گھوڑوں پر فخر اور غلاموں پر جبر سے کمپئیر کیجئے nانسان مر جائے تو کچھ کیا ہوگا
کتا مر جائے تو انسان کتنا ظالم ہے
یہ جدید دور کی دنیا ہے ، کہانی ایک ہی ہے ، لکھاری ایک ہی ہے، استعارے الگ ہیں پرانے ادوار میں ، نت نئے استعاروں کی پیشن گوئیاں بھی ہو چکیں ، انجام بھی بتا چکا ہےnnپر ، ہم nہم تو ، زندہ قوم ہیں 🙂

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.