پوسٹ – 2020-09-18

نوٹ کیجئے گا فیس بک ہو یا عام زندگی
جہاں ، مقصد /ہدف کلئیر ہو ، وہاں ، غیر ضروری اختلافات / تنقید در تنقید ، یونیک بننے کے چکر میں ، اختلافی تبصرے ، بہت کم نظر آئیں گے
وجہ ؟
ہدف /مقصد کلئیر ہونے سے ، ذہنی انتشار/ یونیک بننے کی خواہش انفیکٹ یو نیک پری ٹینڈ کرنے کی خواہش میں کمنٹ در کمنٹ ، اختلافی نکتہ چینی ،
جیسی عادتیں ختم ہوجاتی ہیں ، کیوں کہ، بہرحا ل ، ذہن فوکس ہو چکا ہوتا ہے
اور اختلاف رائے ، حسن ہے ، پر اس بات کی ایپلی کیشن ، وہاں ہوتی ہے ، جہاں nایک ہی ہدف کو حاصل کرنے کےلیے ، کوشش کی جا رہی ہو ، برین سٹارمنگ ہو ، اوراختلاف کی نیت ، سمت درست رکھنے کی ہو
یونیک بننے کی نہیں
سو ، اب بات یہ ہے کہ nفیس بک پر ، کتنے لوگ ، خصوصا پاکستانی ، اس بات پر یقین رکھتے اور عمل کرتے ہیں n”اختلاف رائے حسن ہے”nلول nیہ منتشر الذہان نسل تخلیق کرنے کےلیے بنایا گیا ایک ، ٹول ہے ، جس نے ، nڈسکشن/ آرگیومنٹ کا فرق تباہ کرکے رکھ دیا ہے
اب لوگوں کو یہ بھی سمجھ نہیں آتاn”گفتگو کی جانی چاہیے یا ، بکواس در بکواس بحث در بحث ، کمنٹ در کمنٹ”nیقین نہیں آتا؟
کسی بھی اس قماش کے بندے سے یہ سوال کر کے دیکھیں n”بولنے اور کہنے میں کیا فرق ہے”nnاس کا ردعمل ، ہی جواب ہوگا 🙂

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.