یہ کوئی ، حتمی بات نہیں پر ۔
جو چھیڑ نہیں سکتا ، صرف گھورتا رہتا ہے ، وہ شریف نہیں ہے ، اور نہ ہی محافظ – ایسے آدمی کے اندر ریپسٹ ہوتا ہے — خواہ شکل / عام زندگی میں کتنا باشرع/فیملی مین ٹائپ ہو کیوں کہ ایسے لوگ اظہار کی قوت سے عاری ہوتے ہیں اس لیے اندر ہی اندر پکتے رہتے ہیں ، پر کبھ سامنے سے جا کر بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی کیوں کہn”لوگ کیا کہیں گے ” کا ڈر ہوتا ہے ۔۔
دوسری بات۔
جو چھیڑ سکتا ہے وہ گھورتا نہیں ، براہ راست کاروائی کرتا ہے ، چھیڑ کر ، مخاطب ہو کر ، پراگریس کر کے ۔۔ ضروری نہیں وہ باشرع بھی ہو اور فیملی مین بھی ، پر ، یہ طے ہے کہ ، جو چھیڑ سکتا ہے لیکن چھیڑتا نہیں ، وہ سب کچھ ہو سکتا ہے رے پسٹ نہیں ، کیوں کہ ، اظہار کی قوت بہرحال رکھتا ہے ، اس لیے گھٹ گھٹ کر رے پسٹ والے لیول پر نہیں پہنچتا، یہ اگر چاہے تو ویسے ہی رضا مند کرلیتا ہے ۔۔ پر وہی بات ، اس کی چاہت ، پہ اس کی عقل کا پہرہ ہوتا ہے ۔۔ کیوں کہ ، کھوپڑی میں دماغ ، سینے میں ، عقل ، اور شہوت وہیں ہوتی ہے جہان ہونی چاہئے ۔
جب کہ پہلے والے کے اندر ، نفس سے کنٹرول سے زیادہ ، شہوت بھری ہوتی ہے ۔۔ اور اظہار کی جرات نہیں ہوتی ۔۔ تو شریف بن کر گھوریوں پر گزارا کرلیتا ہے ۔۔
پوسٹ – 2020-09-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد