طرز تحریر/اسلوب ، یہ طے کرتا ہے کہ ، پڑھنے والے کے دماغ میں ، کس قسم کا ، موڈ/نفسیاتی کیفیت برپا کی جائے -nتو ، اگر کچھ پڑھ کر ، آپ کے آگ لگتی ہے ، تو اس کا مطلب یہ ہوا ، کہ لکھنے والا چاہتا تھا کہ ، آپ کو مرچیں لگیں ، کیوں کہ وہ آپ کی نفسیات / دماغی کیفیت سے واقف ہے nاور اگر ، پڑھ کر آپ میٹھے ہوجاتے ہیں تو یہ بھی لکھنے والی کی مرضی تھی nکردار آپ ہوتے ہیں ، لکھاری نہیں ، اس لیے ، کسی کے لکھے پر، اس کی نفسیات/شخصیات جج کرنا ، کبھی بھی آپ کے اختیار میں نہیں ہوتا
آپ کے اختیار میں وہ ہوتا ہے ، جو پڑھ کر ، آپ نے فیل کیا، اور وہ اختیار اتنا ہی ہوتا ہے ، جتنا ، لکھنے والے نے آپ کو دینا چاہاn:)
پوسٹ – 2020-10-10
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد