پوسٹ – 2020-10-10

طرز تحریر/اسلوب ، یہ طے کرتا ہے کہ ، پڑھنے والے کے دماغ میں ، کس قسم کا ، موڈ/نفسیاتی کیفیت برپا کی جائے -nتو ، اگر کچھ پڑھ کر ، آپ کے آگ لگتی ہے ، تو اس کا مطلب یہ ہوا ، کہ لکھنے والا چاہتا تھا کہ ، آپ کو مرچیں لگیں ، کیوں کہ وہ آپ کی نفسیات / دماغی کیفیت سے واقف ہے nاور اگر ، پڑھ کر آپ میٹھے ہوجاتے ہیں تو یہ بھی لکھنے والی کی مرضی تھی nکردار آپ ہوتے ہیں ، لکھاری نہیں ، اس لیے ، کسی کے لکھے پر، اس کی نفسیات/شخصیات جج کرنا ، کبھی بھی آپ کے اختیار میں نہیں ہوتا
آپ کے اختیار میں وہ ہوتا ہے ، جو پڑھ کر ، آپ نے فیل کیا، اور وہ اختیار اتنا ہی ہوتا ہے ، جتنا ، لکھنے والے نے آپ کو دینا چاہاn:)

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.