بندے کو جھوٹ بولنا نہ بھی آئے ۔۔ کوئی مسئلہ نہیں لیکن یہ اگر سمجھ آجائے ۔۔ کہ کون سی بات کہاں فٹ کرنی ہے ۔۔ یعنی حقیقی بات۔۔ تو اس کی مثال شطرنج کے کھلاڑی جیسی ہوتی ہے ۔۔ جو شطرنج کے اصول بھی خود طے کرتا ہے اور مہروں کی فطرت بھی ۔۔ ایسی زندگی کسی کو مل جائے تو یقین کریں دنیا میں رہنے کا صرف ایک مقصد بن جاتا ہے ۔۔ nموت کا انتظار ۔۔

اترك رد