جذباتیت/حساسیت /ردعمل کا طاعون – پندرہویں قسطnnچونکہ ، ایسے افراد کی اپنی زندگی /شخصیت ، تباہ ہوچکی ہوتیہے ، مذکورہ وجوہات کی بنا پر ، تو ان میں منفیت کا ایک طوفان برپا ہوتا ہے ، توانای کی شکل میں ، اور یہ زیادہ تر ، پھر ایسے ایریاز/افراد/صورتحال/تحاریر/مواد کی طرف ، خود بخود متوجہ ہوتے ہیں ، جہاں ، ان کی ، اس بیماری کو تسکین ملتیہ و، یہاں ، جذباتی شدت پسندی ، نمو پاتی ہے ، یہ منفیت سے ، توانائی کشید کرتے ہیں ، nیہ دوسروں اکیلا چھوڑ ہی نہیں سکتے ، اسی وجہ سے ، جب ایسے افراد ، سیاسی تنظیموں /مذہبی سائڈز پر جاتے ہیں ، تو وہاں ، ان کی خوب واہ واہ ہوتی ہے ۔۔ کیوں کہ ، یہ لوگوں کو پولیوٹ کر کے ، ان میں منفی جوش ابھار کر ، در اصل اپنے جذباتی/حساسیت بھرے ردعمل والے طاعون کو تقویت دے رہے ہوتے ہیں اور لوگ انہیں مسیحا سمجھ کر ، انہیں خطیب ، حضرت صاحب ، مرشد ، لیڈر ، سمجھ کر ، ان کی واہ واہ کررہے ہوتے ہیں
آپ جتنے بھی جوشیلے خطیب لیڈر دیکھ لیں ، لاسٹ دس برسوں میں ، سیاسی ہوں یا مذہبی ، ان کی فالوونگ میں آپ کو ، ایسے ہی افراد نظڑ آئیں گے nبے عمل ، متشدد ، زودرنج ، حساس، جن کا رخ یہ جس طرف چاہیں موڑ دیں nدنیا بھر میں ، ایک مخصوص ایج گروپ پر ، یہ طاعون ، زیادہ ایزیلی اثر کرتا ہے ، اسی نسل کے ، ووٹوں/مجمعے کا اثر آج ہم پوری دنیا کے حکومتی ایوانوں میں دیکھتے ہیں
پوسٹ – 2020-10-13
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد