کئی مہینوں سے ایک جوان بھکارن ، گلی میں چلا چلا کر بھیک مانگتی تھی ، کچھ دن قبل ، جب آواز لگانے سے آگے بڑھ کر ،اس نے دروازہ بجانا شروع کیا تو ، کچھ دن پھر ضبط کیا ، ایک دن ، نہا دھو کر ، بدن پر ، تولیہ باندھے ، کپڑے ڈھونڈ رہا تھا ، تب اس بھکارن کی آمد ہوئی ، اس نے پھر دروازہ بجایا ، اس بار ، تولیہ بردار نے ، کافی دور سے ہی ، بھکارن کو آہستگی سے پکارا ، اور کہا ، بات سن
بس اتنا کہنا تھا کہ ، اس کے چہرے پر ایک خوف ، کی لہر دوڑ گئی ، کچھ تھا اس کی آنکھوں میں ، تولیہ بردار ہاتھ میں پیسے پکڑا اسے پکار رہا تھا اور وہ ، دروازہ بجانا تو درکنار ، اب آواز بھی نہیں نکال رہی تھی ، کچھ سیکنڈ ، بعد وہ ، جیسے الٹے پاوں ، وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی ،
وہ دن ہے آج کا دن ہے ، نہ اس کی آواز سنائی دیتی ہے ، اور نہ ، ہی ، وہ خود شاید کبھی نظر آئی
دروازہ آج بھی ویسے ہی کھلا ہے ، پر تولیہ بردار ، اب بھی سوچتا ہے
میں تو صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ ، دروازہ نہیں بجایا کرو ، اس عمر میں ، آرام میں خلل پڑتا ہے ، تو ، شوگر بی پی کے مسئلے ہوجاتے ہیں
ادھورے انکل کی ڈائری
پوسٹ – 2020-10-15
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد