پوسٹ – 2020-11-24

ایک عزیز دوست کے بچپن کا سچا واقعہ ۔
بارہ چودہ سال کی عمر میں ، جاسوسی ایکشن سسپنس کہانیاں پڑھنے کا اثر
ایک بار سو روپے ، چرا کر وڈیو گیم کھیل کر آگیا ، تفتیش کا رخ ، بدلنے کے لیے ، درج ذیل کہانی سنائیn” گھر میں پستول بردار چور آیا تھا ، جو صرف “سو” روپے چرا کر لے گیا”nپکڑے وہ صاحب اس سوال پر گئے
ایسا کون سا قناعت پسند چور ہے بھئی ، جو پستول لے کر آیا ، اور وہاں سے سو روپے نکال کر لے گیا، جہاں چار پانچ سو روپےاور بھی تھے ، اور ، ایک سونے کی چین ، اور بالیاں بھی تھیں؟
یہ لکھنے کا مقصد ، یہ تھا کہ ، جب چھوٹی عمر سے ، آپ کو کہانیاں سنائِ جاتی ہیں تو پھر آپ بڑے ہو کر ،ہر چیز کو ، دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہوجاتے ہو
نوٹ کریں ، ایک پوری نسل کو، مطالعے ، تحقیق ، کتب بینی ، وغیرہ سے ، ہٹا کر ، محض ، ایک ہی سائڈ کی وڈیوز دکھا دکھا کر ، صرف اور صرف، “کانسپرسی تھیوری” کی طرف ڈالنے والا کون سا باوقار ادارہ ہے ، پارلیمنٹ ، یا پارلیمنٹ.nظاہر ہے ، کانسپریسی ، ہوتی ہی ہے ، پر کیا ہر بار ؟ ہر سیناریو میں ؟ nیہ اتنے اہم ہو تم لوگ ؟ اور یہ اہمیت کا، بھوت کس نے چڑھایا ہے سر پر ؟
ظاہر ہے ، مذہبی طبقہ بھی شدید شامل ہے ، پاکستان کو، سامری کا بچھڑا انہوں نے ہی بنایا ہے — اور پورا پورا ساتھ دیا ہے ، ان کا ، حب الوطنی بیچنے والوں نے nکیوں ؟ nتاکہ ، پوری قوم میں “سائیکوسس” جنم لے
سائکووسس میں بنیادی طور پر کیا ہوتا ہے ؟n”سب ہمارے خلاف ہیں ، سب میرے خلاف سازشیں کررہے ہیں ، یقینا، یہ سب ، کسی نہ کسی بڑی سازش کا حصہ ہے ، جو ہو رہا ہے مجھے ٹریپ کرنے کے لیے ہو رہا ہے، حتی کہ بندہ خود کو بھی نقصان پہنچانا شروع کردیتا ہے ، اور الزام دوسروں پر ڈالتا ہے– وجہ ؟ ، تاکہ پکا ہوسکے ، کہ ہاں دیکھو میں نے کہا تھا نا سازشیں ہیں وغیرہ وغیرہ”nnخیر، چوپو اب یہ نفسیاتی نسل ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.