پوسٹ – 2020-11-26

ویب کنسلٹنسی میٹنگ کا آنکھوں دیکھا حال
کلائنٹ ، بہت مخلص ، لیکن شدید معصوم تھے
ایک بٹن کے ڈیزائن کو دیکھ کر کہنے لگےn”اس بٹن کو دبانے سے ، بڑا ہوجاتا ہے ؟ “nایک ذلیل، جونئر کہتا ہے ،
سر کیا ؟
وہ گڑبڑاگئے ، کہنے لگے ،
بھئی کچھ بھِی مطلب ، اس بٹن کو کلک کرنے سے بڑا ہی ہوگا نا
وہ جونئر اب ، مستی میں آگیا
کہتا ہے
سر ، آپ دبائیں ، کلک کریں ، آہستہ سے ٹچ کریں ، سب کچھ بڑا نہیں ہوسکتا
وہ سنجیدہ ہوگئے
بھئی یہ تو بٹن ہی خراب ہے
وہ کہتا ہے ، نہیں سر ، اصل میں آپ کی نیت خراب ہے
وہ کہتے ہیں
ایکسکیوز می کیا مطلب ،
وہ کہتا ہے
مم میرا مطلب ہے ، آپ کا ، کانسپیٹ کلئیر نہیں ہے ، میں بتا دیتا ہوں
اس دوران ، ٹیم لیڈ ، ہنس ہنس کے پاگل ہوا وا ، اور ہنسی دبانے کے چکر میں ، میز کے نیچے سے ، جونئر کے پاوں پر پاوں مار رہا تھا
جی بتائیں کلائنٹ نے پوچھا
اب وہ سمجھا کیسے رہا ہے یہ حرف بہ حرف چیک کریںn”سر دیکھیں بات یہ ہے کہ ، انسان جب نئی نئی لگانا سیکھتا ہے ، نا ، آئی مین ، ارے سر ، ویب سائٹ پر نیوی گیشن ، بار ، بینر ، گرافکس ، کچھ بھی نئی پروڈکٹ، تو اسے لگتا ہے ، کوئی بھی بٹن دبانے سے ، کلک کرنے سے ، کچھ بھی بڑا ہوجاتا ہے
لیکن سر اس ویب کے ڈیزائن میں ایک بار یہ بٹن دبانے سے صرف ایک بار بڑا ہوگا
اب کلائنٹ کہتا
بھائی لیکن کیا
کیا بڑا کرنا ہے یہ بھی تو بتاو
اب لیڈ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ، اب مداخلت نہ ہوتی
تو لیڈ اور جونئر دونوں فائر ہوجاتے
لیڈ اس کا بھی لیڈ تھا
کہتا ہے ، سر میں سمجھاتا ہوں یہ ابھی انٹرنی ہے ، دیکھیں آپ اس بٹن کر نرمی سے دبائیں ، اور آنکھیں بند کرے دبائیں ، کھول کر دبائیں ، آپ کو ، ونڈو سائز اور مینو بار ، ہر بار ، مختلف سائز کا دکھے گا ، یہ کہتے ہوئے ،
اس نے کلائنٹ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ماوس کو ذرا سا دھکیلا اور کہا ،
چلیں سر ڈیمو دیتا ہوں مل کر دباتیں ، آنکھیں بند کیجئے
خیر ، اس کے بعد، کارپوریٹ ای میل پر ان دونوں کے ساتھ جو ہوا وہ تو الگ کہانی ہے
بعد میں ، دونوں ، ڈپارٹمنٹ ہیڈ کو سنا سنا کر اسی سے سگرٹ پی ہی کر قہقہے لگا رہے تھے ، ایک جملہ اچٹتا ہوا کان میں پڑاn”بغیرتو ، اگر ، اس دن بات بڑھ جاتی تو ، پراجیکٹ گیا تھا ہاتھ سے ، ہر جگہ ہر چیز نہ دبانے بیٹھ جایا کرو”

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.