پوسٹ – 2020-11-28

گل گوتھنے nnبانو قدسیہ کے بارے میں ، زیادہ پڑھا ، ان کا لکھا کم پڑھا، ان کا تعارف ، ممتاز مفتی نے بخوبی ، لکھ چھوڑا ہے ، اور ، اس کے بعد ضرورت ہی نہیں ، ان کے لکھے اور ان پر کچھ کہنے کی ، بانو صاحبہ کے اسلوب کا مشاہدہ ، چکھ رکھا ہے ، کچھ راجہ گدھ میں ، کچھ مرد برشیم میں ، زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا ، کہ بہت اونچے لوگ ہیں یہ ، کم از کم جتنا پڑھا ہے اس سے تو یہی سمجھا ، ہاں ، ان کے لکھے سے اختلاف بھی ہے اور اس کا اظہار بھی برملا ہے ، جبکہ جانتا ہوں ، ان کے قد کے آگے ، میرے بونے اختلافات کی حیثِت نہیں ، شاید میری بھی نہیں ، ہونی بھی نہیں چاہئے ، کیوں ہو ، بانو صاحبہ صحن میں لگا چھاوں ، پھل ، خوشبو ، دیتا درخت ہیں ، خوردرو جھاڑیوں نے ان سے کیا اختلاف کرنا ، ذاتی طورپر ، ادب کے المیاتی رخ کو پسند نہ کرنے کا مطلب ، یہ نہیں کہ ، وہ موجود نہیں ، وہ موجود ہے ، پورے استحقاق سے ، اور اس المیے کو پینٹ کرنے میں ، بانو صاحبہ نے ، عورت کی نفسیات کی تمام حسیات نچوڑ کر کاغذ پر بکھیر دیں ہیں ، ایک تو، خود خاتون ، پھر مصنفہ ، پھر اشفاق صاحب کی بیگم ، پھر، ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب کی سنگت ، باقی آپ خود سوچ لیں کہ ، ادب کیسے ان کے آنگن میں ، پل بڑھ کر جوان ہوا ہوگا۔ اردو ادب ، ایسی شخصیات کے سامنے گل گوتھنا سا ہی ہوتا ہے ، جیسے موم کی ناک سا جب جہاں چاہو موڑ لو ، nبانو صاحبہ نے ، عورت ، اس کی نفسیات بارے جو بھی لکھا ہے ، اس سے آپ اختلاف کرسکتے ہیں ، اس کا رد نہیں کرسکتے ، بانو صاحبہ کا لکھا پڑھ کر ، ایسا محسوس ہوتا ہے ، کہ سادہ سی گھریلو سی خاتون ، کچن میں ، کھڑی دال بھات پکاتی پکاتی ، گھر کے سودا سلف کا حساب کرتی ، ایک کپڑے سلائی کرتی ، چند صحفے بھی لکھ لیا کرتی تھی ، اتنی سادگی ، خلوص، گھریلو گاڑھا پن ، ان کی تحاریر میں شاید موجود بھی اسی لیے ہے کہ ، بانو آپا فطرت سے بہت قریب رہیں ، تصنع ان کی لکھائی میں نام کو نہیں ، آپ کچھ بھی پڑھ لیں ، ایسا محسوس ہوگا وہ تحریر نہِں مکالمہ ہے ، کوئی خاتون سامنے بالکونی میں اپنی پڑوسن سے مخاطب ہے ، اور روزمرہ کی زندگی پر تبصرے ہو رہے ہیں ، گلی سے گزرتے کسی شخص پر نکتہ چینی ہو رہی ہے ، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ، بانو صاحبہ کے اندر بھی ایک اور بانو قدسیہ تھیں ، بانو قدسیہ ، اس لڑکی سے مکالمہ کرتیں ، افسانے لکھا کرتی تھیں ، یہ افسانے زندگی کی کہانیاں ہیں ، یہ خود بانو کے سامنے سے گزرتے اپنی داستان سناتے ، بانو ان کو قلم بند عین اسی طرح کردیتیں جس طرح یہ پیش آتے ۔
میں ان پر مزید لکھتا ، لیکن ، میں نے کو پڑھا ہی کم ہے ، اور جتنا پڑھا ہے اس میں چند ایک موضوعات سے اختلاف کے باوجود ، ان کا ، اسلوب ، میرا پسندیدہ ترین ہے ، وجہ وہی ، کہ میں کسی قسم کے ادبی بیک گراونڈ سے وابستہ نہیں ، اس لیے ، تنقید کر ہی نہیں سکتا ، رائے دینے کا اہل نہیں ، کیوں کہ ؟ اس کے لیے ، ان کو پورا پڑھںا ضروری ہے ، جب کہ میں نے ان کی لکھی د وسے تین تحاریر پڑھی ہیں ان کے بارے میں ممتاز مفتی کا لکھا خاکہ پڑھا ہے اورمفتی صاحب کے لکھنے کے بعد ، کسی اور کا رائے دینا – ؟ nبرگد تلے جھاڑی اگی ہے کبھی ؟ اور اگے بھی کیوں ؟

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.