پوسٹ – 2020-11-28

استعاراتی انداز لکھنے کی ایک سادہ اور آسان ترین ترکیب
اپنے علاوہ ہر شے کو انسان سمجھیں، اور انسانوں/کرداروں کو ، شے ، یعنی کہانی کی ضرورت کے مطابق۔ اور اس کے ساتھ ویسے ہی الفاظ استعمال کریں ، جو انسانی کرداروں کے لیے ہوتا ہے
مثال
مثلا ، اگر آپ کہنا چاہتے ہیں ، کہ
ان دونوں کی لڑائی ، چلتی رہتی ، اگر، وہ آگے بڑھ کر اسے لمیا نہ پا لیتا ، یعنی رومانس والا سین
اب اگر اس کو استعارے میں ڈھالنا ہے تو
انا کو پسینے کے قدموں تلے روند کر ، دونوں فطری مدوجزر کا شکار ہو چکے تھے
یہ بریک ڈاوں کچھ یوں کیا جاسکتا ہے
لڑائی کیا ہے ؟ انا ؟ یعنی کوئی بے جان چیز ، ظاہر ہے ، Tangible ںہیں ،
لمیا پانا کے نتیجے میں ، پسینہ نکلے گا، وہ کیا ہے ، ظاہر ہے ، مخلوق/کردار نہیں
اور اوپر کیا لکھا ہے ؟
تو
کہ کسی شے کو کردار/انسان کی طرح ٹریٹ کریں یعنی پسینے کے قدم بنا دئیے ۔
اور
کسی کردار/انسان کو ، شے کی طرح
اب اس میں
ان دونوں کے کردار کے ساتھ “مدوزجر” لگایا ہے ، کیوں ؟
مدوجزر اشیا /نان ٹینجبل چیزوں کا ہی ہوتا ہے رائٹ ؟
چیک کریں ، یہ والا کیسا ادبی چورن بنے گا
مطلب وہی ہے ، آپ نے ، پسینے کو انسان/مخلوق بنا دیا ، اس کے پاوں اگا دئیے ، اور جو پیسنہ نکالنے والی پارٹیاں تھیں ، انہیں ، سمندر/موج/شے میں بدل دیا ،
یعنی ان کے ساتھ ، مدو جزر لگا دیا
جبکہ ، اب کیا مدوجزر اس عمر میں –nخیر ، ٹرائی کریں ، بہت __رامی قسم کے ، استعارے بن جائیں گے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.