فلموں/ڈراموں/کہانیوں میں ، ولن کردار، زیادہ مشہور / مضبوط / طاقتور ، کیوں بنائے جاتے ہیں ، یا کم از کم انہیں زیادہ پسند کیوں کیا جاتا ہے ؟
انسان منفیت کی طرف جلدی مائل ہوتا ہے
یہ تو ہوئی ایک وجہ
اس کے علاوہ ؟
ولن ، رسک ٹیکر ہوتا ہے ، چلتے نظام میں ، مستی کرتا ہے ، انارکی کری ایٹ کرتا ہے
اور ہیرو ، جنرلی ، ردعمل کے طور پر وجود میں آتا ہے ، یعنی اگر عمومی طور پر، ولن کچھ نہ کرے ، تو ہیرو کس بات کا ہیرو ؟
اب آپ کو حقیقی زندگی میں شاہکار بننا ہے ؟
سوچ ولن والی رکھیں ، یعنی رسک ٹیکر، منفرد، تخیلقی ، متغیر، پرو ایکٹو، آگے بڑھ کر ، معاملات کو ڈیل کرنے والا،
پر کام ، ہیرو والے کریں ۔
پاکستانی معاشرے میں یہ کیسے ممکن ہے ؟
تقریبا ناممکن ہے ، کیوں کہ ، یہ اصطبل ہے ، ایک کھوتا ہے ، باقی خچر یا ایک خچر ہے باقی اس سے بھی نیچ
اب اس میں آپ ، خود کو نارمل ہی رکھ لیں ، یہی بہت ہے ،
پھر ، اگر وہ کرنا ہے جو اوپر لکھا ہے ،
تو اس معاشرے کے “ممنوعات” کو توڑیں ،
مذہبی ممنوعات کو توڑیں ، سماجی ممنوعات کو توڑیں ، رسمی ممنوعات کو توڑیں ۔
آغاز کہاں سے کریں ، اپنی ذات سے
کیسے ؟ گھر میں ، ٹھیک کو ٹھیک ، غلط کو غلط کہنا سیکھیں
نہیں کہہ سکتے ، تو آپ کے والدین کے کھلائے ہوئے حلال رزق کا کوئی فائدہ نہیں ۔
کس کے سامنے ،ہررشتے کے سامنے ، ہر تعلق کے سامنے
لیکن ، تمیز سے ، تہذیب سے ، یاد رکھیں ، سوچ اور فطرت ولن والی رکھنی ہے ،
عمل ہیرو کی طرح کرنا ہے ، پورے استحقاق سے ، تیقن سے ، شعور سے ، بدفطرتی سے نہیں ۔۔ انا سے نہیں ، صرف میری مانی جائے والی سوچ سے نہیں۔
یہ بڑا دھوکہ ہے کہn”میں تو خود فیملی پر انحصار کرتا ہوں ، کس منہ سے کہوں
جس منہ سے انحصار کرتے ہو ، اسی منہ سے۔
کچھ وقت کے بعد ، کردار یادگار نہ ہو تو— اوہ اس میں ، اگر والا سوال ہی نہیں ۔ کر کے دیکھیں ، کمنٹ پر ڈسکشن کے بجائے ،
اصل میں یہ کام ہے مشکل ، اس لیے ، ہم ، انتظار کرتے ہیں کہ ، کوئی نشئی یا کوئئِ اور مذہبی مسیحا آکر صحیح کردے گا، اسے اپنا ہوش ہو تب نا ۔۔
آخری بات ، لوگوں کو آئرین مین زیادہ کیوں پسند ہے ، nسوچ سالے کی ولن والی ہی ، ہے ، بہاو کے مخالف تیرتا ہے ، لیکن ، عمل/نتائج، مثبت ہوتے ہیں ۔ nخیر
مذہب سے ، آپ کو مرچی لگی ہوگی، لگنی چاہئے کیوں کہ اصطبل ہے نا ۔ اس لیے
ورنہ ، مذہب لکھا ہے دین نہیں 🙂
پوسٹ – 2020-12-08
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد