مجھے پتا ہے، میں اعترافات اگل رہا ہوں، اظہار سے چھلک رہا ہوں، میں جانتا ہوں، یہ لاوا میری آخری کمائی ہے، جو لٹتی چلی جا رہی ہے، جذبات احساسات میں ڈھل رہے ہیں، احساسات اظہار میں، اظہار اعتراف کی خواہشات میں ، خواہشات لفظ ڈھونڈ رہی ہے، لفظ ودیعت ہو رہے ہیں، لفظوں سے حقیقت مجسم ہو کر، تپ دق کے بیمار جسم کی مانند ، ہر سانس کے ساتھ خون اگل رہی ہے،
میں جانتا ہوں، کہ جذبات و کیفیات ، جس توانائی سے بھبھک بھبھک کر اڑ رہے ہیں، یہ نظام شمسی کے مرکز سورج ، کی آخری پکار ہے، اس کے جوہر میں دبے چند ، بچے کھچے ایٹمی دھماکے ہیں،
جانتا ہوں، ان میں بہت طاقت ہے، اندر کوئ ستارہ مر رہا ہے اور جب کسی ستارے پہ سکرات کا نزول ہوتا ہے تو جانتے ہو کیا ہوتا ہے ؟
پہلے اس ستارے کے بیچوں بیچ بسے بھانبھڑ مزید بھڑکتے ہیں، پھر اس کا مرکزی حصہ، اس کے ظاہری خواص پہ غالب آنے لگتا ہے، اس کی کشش اس قدر شدید ہوجاتی ہے کہ وہ ستارے کا باقی ماندہ وجود نگلنے لگتی ہے، کے اندر ہوتے دھماکے، اس کا ایندھن ختم کرنے پہ تل جاتے ہیں، بظاہر وہ زیادہ روشن، اپنے وجود کی بقا کے لیے لڑ رہا ہوتا یے، لیکن اس کے ایندھن میں کمی آتی جارہی ہوتی ہے، آخر کار، اس کا انجام، یہی ہوتا ہے کہ اس کے وجود کے تاروپور اس کا مرکز، اس کی جسامت، اس کی توانائی، اسی کی قاتل بن جاتی ہے، پھر اس پر ایک لامتناہی اندھیرا نازل ہوجاتا ہے، پھر وہ اپنے نظام شمسی کا مقبرہ بن جاتا ہے،
ہاں میں تمھیں اپنے مرکز کی کنجی دے بیٹھا، ہاں میں اب بھڑک رہا ہوں، ہاں میں اب ابل رہا ہوں، ہاں اب سکرات برسے گی ہاں اب،سکوت نازل ہوگا، ہاں اب میرا انجام قریب ہے، ہاں، اب سردی اندھیرا۔ بس چند کوس ہی ہے۔
فکر مت کرو، یہ مستقل رہے گا، اور تم مسلسل۔
پوسٹ – 2021-01-05
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد