پوسٹ – 2021-01-22

پراپیگنڈا (خواہ ٹھیک ہو یا غلط)nایک ہی اصول پہ چلتا ہےnnتواترnnدنیا کے ہر انسان کا ذہن / لاشعور اس چیز پہ بائی ڈیفالٹ۔ پروگرامڈ ہے کہ
جتنا تواتر/کثرت کے ساتھ، اس تک کوئی چیز پہنچے گی
خصوصا، ‘بظاہر’ قابل اعتبار، ذرایع ( پوری دنیا کا ،اکثریتی میڈیا ہو یا عسکری میڈیا، ویسے کوئی خاص فرق نہیں اس میں، ) دونوں صورتوں میں،
لوگ، اس بات کو، اتنا ہی جلدی مانیں گے بھی
اور پھیلائیں گے بھی۔nnیاد رکھیںnnعام طورپر، مختلف ذرایع سے متواتر، ملنے والی ہی ایک ہی خبر /بات کو
لوگ، تجزیئے یا موازنے کے بجائےn’ثبوت کے طور پر ‘ لیتے ہیںnnجتنی مقدار/کثرت سے ان تک ایک ہی بات پہنچے گی،
تو وہ ذرایع ان کے کیے، گواہ/ثبوت کی حیثیت اختیار کرتے جائیں
انسانی ذہن قدرتی طور، پر، تواترکو، ایکیویٹ کر کے اس کا فوری تجزیہ نہیں کرسکتا (یہ اس کی نااہلی نہیں، ادراک نہ ہونا ہے)n اسی لیے، اسے ثبوت والے خانے میں ڈالتا چلا جاتا ہے،
حتی کہ وہ بات ایک دن اس کا عقیدہ بن جاتی ہے
اور اسے احساس تک نہیں ہوتا۔nnجس کا لاشعور جتنا کمزور ہوگا، اتنا ہی جلدی اس کو ری پروگرام کرنا (اپنی مرضی سے) آسان ہوگا۔nnہاں، لاشعور پہ کنٹرول ممکن ہے، ایسا ممکن ہے کہ، کوئی کتنا بھی کوشش کرے ، پراپیگنڈا کی زد میں نہیں آئے گاnnاب یہ والی پروگرامنگ پتہ نہیں کیسے ہوتی ہے، شاید، سرائیکی لب و لہجہ nعمر اٹھائس سے اڑتیس سال
ڈھونڈنا پڑے اس کام کے لیے
ورنہ مجھ جیسے کمزور ذہن و شعور کے مالک تو ہر کسی کی باتوں میں آجاتے ہیںnnI am so scared…

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.