سوشل میڈیا مارکٹنگ کی اہمیت اور اپنے تئیں “سنجیدہ” پارٹیوں کا رویہ ۔nnآپ انفرادی ہوں یا کارپوریٹ کلاِئنٹ، آج کل کے دور میں ، مارکٹنگ کی اس قسم کو ، نظر انداز کرنے کا سوچیں بھی مت
خصوصا شروع کے چند مراحلnnاور اگر ، آپ ، خود سوشل میڈیا کمپنی ہیں ، تو درج ذیل واقعے سے عبرت پکڑیں ، اور ایسے لوگوں کو مکمل اوائڈ کریں ۔۔nnکراچی میں ، ایک “ویژنری مذہبی پارٹی” جس کا ویژن ، جو اب تک سمجھ میں آیا وہ یہ ہے کہ ، کہ نوجوانوں کو اللہ رسول کے نام پر ،
ان کی صلاحیتیں نچوڑو اورn”اس کا صلہ آخرت میں ملے گا “nکہہ کر کے ٹاٹا بائے بائے کردو،ان کے دو تین امیدوار غالبا ایک گلشن کی کسی یوسی کے تھے اور دوسرے شاید ایف بی ایریا کے
بلدیاتی الیکشن میں ، پروموشن کرنی تھی
کمپنی کے پاس ، اللہ ہو اللہ ہو کرتے ہوئے آئے
ہمارے ٹیم لیڈ نے ، شکل دیکھتے ہی ، باس سے کہہ دیا کہ ، یہ پیسے نہیں دے گا ، اور دعائیں ان کی درکار نہیں
بہتر ہے ان کے ساتھ میٹنگ میں وقت خراب نہ کریں
باس چونکہ ، اس ایج کو پہنچے تھے کہ ، جب ، انسان کو ، کنسرٹ میں بھی ، نعتیہ شعر سنائی دے رہے ہوتے ہیں
اسے ، ایمپلائی سے زیادہ ، آخرت کو سنوارنے کی پڑی ہوتی ہے ، کیوں کہ ، دنیا اپنی پہلے ہی سنوار چکا ہوتا ہے
خیر ، دو سے تین میٹنگ میں ،
یہ بات سامنے آگئی کہ اس سیاسی مذہبی مدار خانے کے ایک دو افراد کو چھوڑ کر ، باسی برگد بڈھے ، ڈیجیٹل میڈیا کی الف سے بے تک نہیں جانتے
اور نہ ہی دلچسپی رکھتی ہوتے ہیں جبکہ ، زبانیں اور ان کے تقوی سے لبریز آفس کی دیواریں ، درج ذیل ،کلام سے سجی تھیں یn”مومن اپنی فراست کے نور سے دیکھت اہےn”مومن اپنےزمانے سے ہم آہنگ ہوتا ہے
ان کے اسسٹنٹ ، ٹیکنالوجی کو سمجھتے اور اہمیت دیتے تھے ، انہیں کی کوششوں سے ، میٹنگ میں بات کچھ آگے بڑھی ،
دونوں ، بابوں کا ،
زور بجٹ کٹوتی پر تھا اللہ کے نام پر ،
نہ کہ ، عمل کو سمجھنے کے
کہ اس کام کا فائدہ ، ان کے امیدوار کے جیتنے کی صورت ہوتا،
خیر ، جو صاحب اس پورے معاملے میں ، کمپنی اور ان “متقیوں” کے بیچ ، وہ مخلص تھے اور کام کی اہمیت کو سمجھتے تھے ۔nn”پل” کا کردار ادا کررہے تھے ، وہ انہیں سمجھا سمجھا کر ، خوار ہوگئے کہ
یہ کمپنی والے ، آپ لوگوں کے سابقہ کرتوتوں کی وجہ سے ، میٹنگ نہیں کرنا چاہ رہے تھے ، اب میں لے آیا ہوں تو میری خشخشی ڈاڑھی کی لاج رکھ لیں ،
الیکشن میں ، دو مہیینے ہیں بس ،n آپ پہلے ہی لیٹ ہیں
ایسا نہ ہو ، بعد میں ،آپ کی ڈیجٹل نااہلی آپ کو “لٹا دے” اور آپ بائیکاٹ کر کے الزام ایجنسیوں اور مخالف پارٹیز پر ڈال دیں
اورn”ہم نے اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں پیش کردیا ” کہہ کر بیوگی کی چادر اوڑھ لیں ، اس عورت کی طرح ، جو شوہر کو قتل بھی خود کرے اور مظلوم بن کر ، ہمدردیاں بھی سمیٹے ۔nnبہرحال ،
ان کے معاون ، سوشل میڈیا کی ہر ہر ٹرک اور اس کے استعمال میں پیش پیش تھے، لیکن بہرحال ڈیجیٹل مارکٹنگ فریم ورک موجود نہیں تھا ، لیکن ، جب باس ہی خچر سواری کا شوقین ہو ، تو ، معاون ، پھر سٹیوجاب ہی کیوں نہ ہو ، اس نے کیا کرلینا ہے سوائے جلنے کڑھنے کے ۔ اور شرمندگی کے nقصہ مختصر ، دو تین میٹنگز میں ، ان صاحبان کو ڈسکشنز کے نام پر ، ان کی ذہنی عیاشی کروائی جاتی رہی “کیوںکہ ،کچھ کی آنکھوں میں ، سور کا بال ہوتا ہے ،
ایسوں کی آنکھوں میں ، “شوری” کاnn۔اب یہ کام نہ کرنے کے لیے ، بار بار میٹنگ کرتے ہیں
اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ، کرنا انہوں نے وہی ہوتا جو ، سوچا ہوتا ہے
یعنی ، زمانے کی ، ہر نئی چیز کا رد
بہرحال ، سب ایسے نہ سہی ، پر اکثریت ایسے ہی اغواکاروں کی ہے ، جو ایسی پارٹیوں کے سنگ محاسن پر بیٹھے ، کارکنوں کی محاسن سسٹر ایک کررے ہیں
کرتے سب پارٹی والے ہیں ،،یہ الگ ہیں ، یہ اللہ کے نام پر کرتے ہیں
بندہ فیر شوق سے ذبح ہوتا ہے
بہرحال ، یہ بات دو تین سال پرانی ہے ،
اب ان میں “کچھ” کو عقل آنا شروع ہوئی ہے ، اس لیے ، سوشل میڈیا پر ، ان کی سرگرمیاں اچھی ہیں ، خصوصا، لاہور ونگ بہت زیادہ اچھا کام کرہا ہے
پر ، مجموعی طور یہ ، خصوصا کراچی والے ، انا اللہ ہی ہیں
بہرحال ، اب ہوا یہ کہ
اور یہ بات ، مشن بیسڈ ادارے کی نہیں ہورہی ہائےیہ
ہورہی ہے اسلام کے نام پر کھلی ایک تحقیقی اکیڈمی کی
اور وہاں کا محل وقوع ، بالکل بھی ، درویشانہ نہیں ، نہ آفس نہ ہی ، اندر کا منظر
خیر ، آہستہ آہستہ عقل آرہی ہے ، اور بہتری بھی
باقی ، آٹھ دس سال میں ، گز کی طرح سیدھا کرہی دے گا انہیں وقت۔
قصہ مختصر ، کئی گھنٹے برباد کرنے اور ڈیٹا فراہم نہ کرنے ، جب کہ ، بات انہی کے ریٹ پر طے ہوگئی تھی
کام شروع ہوچکا تھا
ان صاحب کا میسج ، باس کو “پل” کے توسط سے ملا جو میں یہاں
انہی کے الفاظ میں لکھتا ہوں
میرا خیال ہے ، کوئی خاص ڈیجٹل مارکٹنگ کی ضرورت نہیں ، بس اخباروں میں ، کالم وغیرہ چھپوا دیتے ہیں کافی ہےn”اخبار بھی انہی کا اپنا ہے “nباس نے “ہل” صاحب پر طنز کے تیر برسائے کہ ، سر دیکھ تو لیا کریں
باس کو ، اس کے ٹیم لیڈ نے کہاn”سر پہلے بھی کہا تھا ، دیکھ تو لیا کریںn”پل” صاحب ، بےچارے ، شرمندگی اور غصے میں ،n”اللہ رکھے” ، ریسرچ اکیڈمی والے کے پاس جا کر کہتے ہیںn”بس ہوگئی آپ کی مارکٹنگ ، اور جیت گئے آپ کے امیدوار”nاس پورے قصے میں ، ڈیجٹل/سوشل میڈیا فریم ورک کو تکنیکی طور پر کس طرح رد کیا گیا اس کا قصہ مختصر یہ ہے کہn”اللہ رکھے ” اپنے ذاتی اکاونٹ سے ، ان کے
نوارنی اور اور حقوق سے مالا مال ادارے کی ، تصاویر ، اپنے ذاتی اکاونٹ سے ، شئیر کرتے پائے گی
وہ بھی موبائل سے کھینچ کھینچ کر
اور دو دو دن میں دو دو لائک وصول کرتے رہےn”میں سب جانتا ہوں ، میں سب کرلوں گا” کا
متقی ہیضہ ہوتا ہے وہ ، بہت ہی اندوہناک ہوتا ہے
بہرحال ، ان کے لیے رحم کی دعا نہیں نکلتی ،
وجہ سیدھی ہے ، جسے خود فکر نہیں اس کی ہدایت اور رحم مانگ کر لفظ کیوں ضایع کرنا۔nnنوٹ: میں ذاتی طور پر ایسے پراجیکٹس کا حصہ نہ بنتا ، پر سن گن مل جاتی ہے ، اس لیے ، ایسے لوگوں کی خاص نشانیوں سے واقف ہوں ، جن میں ، سے ایک یہ ہے ، ان پر جب کسی فورم پر تنقید کرو
یہ کہتے ہیں n”یہ مناسب فورم نہیں “nمناسب فورم پر تنقید کرو، تو حل مانگتے ہیں nحل ، بھی دے انہیں بندہ ، تو ایسے افراد ، اپر مینجمنٹ میں خود کیا کررہے ہیں nاصل میں حل درکار نہں ہوتا ، ڈسکشن کا جنسی سوری ذہنی چسکہ پورا کر کے “رائے کی اہمیت” اور شوری کا شوربہ پینا ہوتا ہے , nوہ کیا کہتے ہیں انگریزی میں nIf you want to kill and idea , take it to meeting.nاس مناسبت سے تو یہ ، مذبح خانوں کے مالک ہیں ۔
پوسٹ – 2021-01-24
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد