ماہر نفسیات کی خود کشی کو بڑھا چڑھا کر جسٹی فائی کرنے کے بجائے nاس کو یوں دیکھیں
ایک پڑھا لکھا ، نفسیاتی مریض ، nبیٹی کا باپ، معاشرے میں ، سو کالڈ ذہنی صحت بیچنے والا
بیٹی کو قتل کرتا ہے nیعنی قتل نہیں ، بیٹی کا قتل nیہاں تک وہ قاتل ہوگیا
پھر ، اس بیٹی کی اولادوں کے سر سے ماں کا سایا چھین لیا
گویا ، جنت چھین لی nیہاں وہ ، ایک سفاک نفسیاتی سیریل کلر ہوگیا
پھر ، جیسا کہ ایسے لوگوں کا انجام خودکشی ہی ہوتا ہے
تو اس ، عامل میں ،خودکشی کرگیا
ایک عام بندے نے ، بیٹی کو مار کر ، خود کو مارلیا nہاں جرم ، عام مجرموں سے زیادہ سنگین ہے nجاہلیت میں بیٹیاں دفناتے تھے ، کہ وہ جاہل تھے ، اس نے پڑھ لکھ کر بیٹی بھون ڈالی nnیہ معاملہ بس اتنا سا ہے nاس کو جسٹی فائی نہ کریں
اگر جسٹی فائی کرنا ہے nکہ یوں ہوگیا تو ووں ہوگیا تو ایس اہوگیا
ایسی بات جو بھی کررہا ہے ، اسے بھی ذلیل کریں nوجہ ؟
اگر اس بندے کا کام جسٹی فائی کرنا ہے تو پھر
ان لوگوں کی برادری نے جو ، نفسیاتی وارڈ بھرے ہوئے ہیں جھوٹی سچی کہانیاں سن کر ، اپنے دوائیوں کے پیسے کھرے کرنے کے لیے ، ان کو بھی وہاں سے نکال کر ، جسٹی فائی کر کے ، انہیں بھی آزاد چھوریں ، ان کا بھی “کیوں” مل جائے گا کوئی نہ کوئی
ماہر نفسیات برادری ، منہ بند کرکے بیٹھے کیوں کہ جتنا افسوس اور جسٹی فائی کریں گے ، اتنا ذلیل ہوں گے nہو تو ویسے ہی رہیں ، مزید ذلیل ہوں گے n”افسوس نہیں تحقیر بنتی ہے اس عمل پر”nقتل ، خودکشی اور گھر کا اجاڑنا ، nبات ختم۔
پوسٹ – 2021-01-25
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد