پوسٹ – 2021-03-03

سانسوں کے بوسے ، اکثر گلے شکووں کے سونامی خشک کردیتے ہیں ، اور پھر ، کپڑوں چادر پر پڑی شکنیں ، نئے پیمان کی رات میں تارے کاشت کرتی ہیں nایسا کب ہوتا ہے ؟ ایسا تب ہوتا ہے ، جب اس کی بھنووں کے گھنےجنگل میں سرسراتی ، وصل کی سسکیوں سے میری پیشانی کے بیچوں بیچ ایک نئی صبح طلوع ہوتی ہے ، پھر ، اک نیا دن ، ہمارے وجود سے پھوٹتا ، گئی رات کے فسانوں کو بھسم کر کے ایک نئی کتھا لکھنے لگتا ہے ، nجس میں ، شکوے ، گلے طعنے ، لڑائی روٹھنا مننا جیسے کنکر ، فاصلوں کی چھت پر ٹن ٹں برستے ہین ، اور پھر ، رات دوبارہ آتی ہے ، اس بھونچال بھرے سمندر میں سونامی اٹھتا ہے ، اور سانسوں کے بوسے ، اسے خشک کرنے کی سعی کرتے ہیں nایسا ہوتے ہوتے ، وہ نہج برپا ہوتی ہے کہ اطراف کے ماحول سے ، کمرے کی دیواروں سے ، طاقچوں اور اندھیرے میں ، کسمساتے جسموں کی پکار، آئمہ بیگ سی آواز میں یک زبان ہو کر کہہ اٹھتی ہے nnآئی ایم ریڈی تے آئی ایم شیور اوئے n- چول عاشقاں دی سے اقتباس

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.