نفسیاتی مسائل اوران کی اقسامnnآٹھویں قسط اور آخری قسطnnکلسٹر سی کی تیسری اور آخری بیماری nnتنقید/ناقدین کا ڈر سے لوگوں / تقریبات سے مستقلا ، مکمل صرف نظر کرنے کا نفسیاتی عارضہ Avoidant Personality Disordernnیہ نفسیاتی بیماری ، انسان میں ، مسترد ہونے اور تنقید کا خوف شدت پکڑ جانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ، nاس خوف کی انتہا کی وجہ سے اس بیماری کا شکار انسان ، سماجی تقریبات، یا آفسز وغیرہ میں ، انسانوں سے رابطہ منقطع کرنے یا صرف نظر کرنے کو ترجیح دیتا ہے ، nیہ خود کو ،بے وقعت، اور بے کشش سمجھتا ہے ، اس کی تعریف ، اور اس سے لگاوٹ کا اظہار بھی ، اسے اس سوچ میں ڈال دیتا ہےکہ ، شاید یہ اس قابل نہیں ۔۔ nبہت زیادہ جھجکنا ، اعتماد کی کمی ، شرمیلا پن اس بیماری کی ، نشانیاں ہیں اس میں انہیں سوچوں کی وجہ سے ، nبے چینی ، کی کیفیت طاری رہتی ہے ، nسماجی تقریبات اور ہجوم میں ، بہت زیادہ خوف ، جھجھک وغیرہ محسوس کرتا ہے ، اسی وجہ سے اسے nسوشل اینگزائٹی ڈس آرڈ سے بھی منسوب کیا جاتا ہے ، nوجہ اس کی یہی ہوتی ہے کہ nاسے خوف ہوتا ہے کہ ، اسے مسترد کردیا جائے گا،یا اس کی بات کو نظر انداز کیا جائے گا،
یا پھر ، nاس بیماری کی چیدہ چیدہ نشانیاں یہ ہیں nnبہت زیادہ پسند کیے جاںے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے nخوشی / لطف / راحت کا احساس ،نہ مل پانا ، حتی کہ مختلف سرگرمیوں میں بھی ان احساسات کی قلت
کہیں کچھ غلط نہ کر گزروں ، کچھ غلط نہ کہدوں کی گومگو کیفیت اور بے چینی nسماجی معاملات میں بے چینی کا احساسات
تنازعے سے بچتے پھرنا، اس لیے نہیں ، کہ جھگڑا نہ ہو ، اس لیے کہ ، اپنی جھجھک اعتماد ، وغیرہ میں کمی ہو ، خواہ موقف ٹھیک بھی ہو
ملنے والے ، مثبت مواقعوں خواہ آفس / نوکری میں ترقی ہی کیوں نہ ہو ، اسے مسترد کردینا یا اس موضوع سے بچکانہ
اپنی لگاوٹ/محبت / جنسیت بھر کیفیات کا مناسب فرد اور مناسب موقعے پر اظہار سے بچنا ، اور موقعہ آنے پر بھی ، شرم/جھجھک / یا منفیت تخلیق کر کے موقع خراب کرنا
فیصلے لینے سے گھبرانا ، کہ ذمے داری لینی پڑے گی nnمختلف صورتحال یا معاملات سے بھاگنا کہ ، مسترد نہ کردیے جائیں nمسترد / تنقید ہوجائے تو بہت آسانی سے دکھ و تکلیف میں آجانا
اپنی ذات کا انتہا کی حد تک ادراک ہونا
خود سے رابطے بنانے میں مکمل ناکامی nذلیل و رسوا کرنا / اشتعال انگیز رویہ تاکہ سامنے والا اندر نہ جھانک سکے nمجھے کوئِ مقام/رتبہ نہیں ملتا ، مجھ سے برابری کا سلوک نہیں ہوتا ، جیسی کیفیت کا شدت سے بڑھ جانا
کوئی منفی لیکن ، جائز تجزیہ کرے تو بہت زیادہ حساسیت / مکمل بے حسی سے اواِئڈ کرنا ، nاپنی بات کے استحکام اور کمٹ کرنے کی قلت
اعتبار کی شدید کمی ، جن پر کرنا چاہئے ان پر بھی نہیں ۔۔
اپنے آپ کو حقیر سمجھنا
نارمل حالات و معاملات کو منفی کردینا ، یا نارمل حالات و کیفیات سے محض منفیت اخذ کرنا
سماجی تعلقات میں زیروہ ، کوئی حقیقی دوست نہ بنا سکنا ، nتنہائِ پسندی ، فوکس کے لیے نہیں ،بلکہ ، لوگوں اور صورتحال سے بچنے کے لیے خود کو الگ تھلگ رکھنا
سوسائٹی /رشتوں/تعلقات سے ، بے جا ، غیر منطقی اور خوام خواہ کٹے رہنا،
نئی چیزوں کا رسک لیتے ہوئے ڈرنا
خود کو سماجی پیمانوں سے حقیر اور نااہل سمجھنا nمسترد ہونے اور تنقید کے سگنل تلاش کرنا ۔، کسی نارمل بات میں بھی، خود سے ایسی چیزیں ڈھونڈںاnnاس سب کی بہت سی وجوہات ہیں nیعنی یہ سب کیوں ہوتا ہے ، یہ بیماری کیوں جڑ پکڑتی ہے nnایسا کہا جاتا ہے کہ ،nnموروثیت nماحول
سماجی اور نفسیاتی عوامل nلگاتار جذباتی استحصال nتنقید در تنقید در تنقید nتوہین آمیز رویہ nمحبت کی کمی خواہ والدین سے ہو ، یا کسی سے بھی nحتی کہ ساتھ کام کرنے والوں کا رویہ بھی شامل ہو سکتا ہے
پوسٹ – 2021-03-07
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد