پوسٹ – 2021-03-19

اس بارتم نہ تھیں۔۔nnسنو اے سبز آنکھوں والی، دیکھو میں نے تو کہا تھا، میں مارچ میں آوںn گا، تمھارے جامنی اسکارف کو دیکھ کر اٹھائی تھی نا قسم ، کہ تمھارے ماتھے کی تیوریوں کی تپش میں ہلکورے لیتی لگاوٹ کو اس سال، تیسری بار، محسوس کروں گا، دیکھو میں نے تو کہا تھا نا اراضی ریکارڈ سینٹر کی اپسرا میں ہر چکر میں، تمھاری پاٹ دار بھاری آواز کے سرو ساز سے نہال ہونے آوں گا، میں آیا بھی، میں نے پتا کیا تھا نامعلوم نقاب پوش گجری، کہ تم کہیں بیاہی ہوئی، یا منگنی شدہ تو نہیں، پچھلی بار تم سے قلم مانگنے کے لیے، زمینوں کی فرد ملکیت نکالنے کے بہانے، مخاطب ہوا بھی، جب کہ میرے بیگ میں، تمھاری یاد کے ساتھ فرد ملکیتوں کی کاپی بھی پڑی تھی، تمھاری آواز کے فسوں نے پھر سے مجھے اس بار اپنی طرف کھینچا تھا، اور اس بار تو میں، تمھارے دفتر کے اوقات کار میں آیا تھا، کہ اپنے دل کو پھسلانا نہ پڑے کہ تم دیر سے آیے تو شاید وہ سبز آنکھوں والی چھٹی کر کے چلی گئ ہوگی، میں
فروری میں، کراچی جاتے وقت پلٹا تھا، تمھارے کاونٹر پہ رکھے پنجاب کی مٹی سے خاک آلود بازو، استحقاق سے تم سے قلم مانگنا ، تمھارا مجھے اپنی بھاری حاکمیتِ آلود آواز میں دوسرے کاونٹر پہ جانے کا کہنا، مجھے یہ کیفیت دیتا رہا تھا ، کہ شاید تم میرے دیر سے آنے پہ ناراض ہو
شاید تم انتظار کرتے کرتے ہجر کی وجہ سے الجھن میں ہو میں نے کہا تھا مارچ میں آوں گا، کورونا ہو، لاک ڈاؤن ہو، اکیلا ہوں یا کسی کے ساتھ ، آوں گا ضرور، لیکن اس بار اے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سبز آنکھوں والی پری، جب میں پہنچا تو رش کا وہی عالم ہر کاونٹر بھرا ہوا لیکن تم نہں تھی، لوگوں کے شور میں، مجھے ہو کا سا عالم سنائی دیتا رہا اس بار موسم اچھا لیکن ماحول ماتمی تھا
اس بار میں نے تمھارے کاؤنٹر پر تصویر کھنچوانا تھی ، جس کے عقب میں تمھاری جامنی سکارف کے پیچھے سے گھورتی نگاہیں ہوتیں اور ، سامنے، میرا وصل سے بھیگتا، مسافر وجود، پر اس بار ایسا نہیں ہوا، حفاظتی ماسک بیگ میں منن چڑاتے رہ گئے اور میں خود کو یہ تسلی دیتا تشنگی ٹخنوں سے باندھے واپس آگیا کہ شاید ماسک نہ ہونے کی وجہ سے مجھے اندر جانے کی اجازت نہ ملی، nاس بار پنجاب کے رنگ قدرے پھیکے ہیں، اس بار اندر کا موسم مٹیالا ہے، nاس بار تم موجود نہ تھیں، اس بار میں ناموجود ہوا
اس بار پنجاب اداس لگا
اس بار موسم نے قلقلاریاں نہیں، اداسی اوڑھ لی۔
سنو اس بار تمھاری غیر موجودگی نے، مجھے احساس دلایا کہ اب کی بار میں واپس پلٹا تو،شاید تمھارے دیدار کا مزار بنا کر اسی پہ دو ہچکیاں نذر کردوں گا، اس بار میں تم سے وعدہ نہیں، اس بار نہ اگلی بار، nاب صرف تم انتظار کرو گی۔nnیاد رکھنا اگلی بار میں اجنبی ہو کر پلٹوں گا، اب تمھیں سراغ لگانا ہے، گئے دنوں کی وصل سے سیراب رتوں کا۔ nانتظار اب میں کروں گا۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.