میں شراب کو حرام سمجھتا ہوں اور اس سے دور رہتا ہوں ، لیکن ، عمران خان کی ریاست مدینہ میں ، شراب کے لائنسس کو ، کاروباری مقاصد / سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال ہونا چاہئے ، معیشت کو سنبھالا ملے گا، کیوں کہ ، ویسے بھی تو بک رہی ہے لوگ پی رہے ہیں ۔nnتم ، باہر بیٹھے ہو ، تمھارا لینا دینا کیا ہے پاکستان کے معاملات سے ، اوپر سے تم یہ کیا بکواس کررہے ہو ، چو**تئیےnnتم اگر اخلاق سے گفتگو نہیں کرسکتے تو تمھاری گٹر جیسی بکواس سنے کا کوئی شوق نہیںnnتم کاروباری مقاصد /سیاحت کے فروغ کے لیے ، شراب کو یعنی حرام چیزکو معیشت کو سنبھالا دینے کا مشورہ دو ، اور تمھیں گالیاں پڑیں تو تم فورا اخلاق کی گود میں بیٹھو ، کیسے کرلیتے ہو اخلاق کی باتیں ، جب تم ایک حرام اور ام الخبائث چیز کو ، کاروباری مقاصد کے لیے عوامی کرنے کے مشورے دے رہے ہو ، وہ بھی باہر بیٹھ کر ، باہر کی شہریت لے کر- صرف اس لیے کہ تم ایک پاکستانی شکل کے غیر ملکی ہو ، اور تم نے عمران خان کو ووٹ دیا ہے ، کیا فرق ہے تمھاری سرکشی اور ابلیس کی ڈھٹائی میں ؟

اترك رد