پوسٹ – 2021-04-03

Emotional Intelligence – جذباتی ذہانت
دوسری قسط
جذباتی نظم و نسق / قواعد و ضوابط کی پاسداری
ایموشنل انٹیلجنس یعنی جذباتی ذہانت کا دوسرا اہم جز
اپنے جذبات و احسات کا نظم و نسق برقرار رکھنا، یعنی ایک طرف تو یہ ضروری ہے، کہ آپ اپنے جذبات سے واقف ہوں، ان کے اظہار سے ہونے والے، اثرات کا اندازہ ہو، دوسری طرف آپ ان جذبات و احساسات کا نظم و ضبط اور ریگولیشن یعنی انہیں مینیج کیسے کیا جاتا ہے، یہ بھی سمجھتے ہوں۔
اچھا اس بات کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے ، جذبات پہ لاک ڈاون لگا لیں، اپنی حقیقی کیفیات کو چھپا لیں (جیسے اکثر پاکستانی عورتیں اور اب تو مرد بھی کرتے ہی، خیر مرد جذباتی طور پر ویسے بھی ناقص ہے اس کا کرنا بنتا بھی ہے کہ اسکے پاس منطق کی طاقت ہے، جذبات کی عورت کے پاس ہے، عورت ناقص العقل رہتی تو ٹھیک تھا، اب ناقص الجذبات بھی ہو چکی ہے)nبہرحال، یہ ایموشنل انٹیلیجنس ، توخیر، سیکھ کر ریفائن کی جاسکتی ہے،
جزبات و کیفیات کی نظم و نسق، اور مینجمنٹ کامطلب ان پہ پابندی نہیں، بلکہ، ٹھیک وقٹ پہ ٹھیک جگہ اس کا اظہار ہے
رف اور سادہ سی مثال ہے
آفس میں کوئی پرابلم ہے تو اس کا غصہ گھر پہ نہیں نکالو، گھر میں کوئی ایشو ہوا ہے تو وہ آفس میں کارکردگی خراب کرنے کا سبب نہ بنے۔
جزبات کا نظم و نسق ، کیفیات ہے مناسب اظہار کو کہتے ہیں۔
ایسے ہی افراد، کسی بھی قسم کی متنازعہ صورتحال کو حل کرنے، اور ماحول کے تناو کو ختم کرنے میں کافی بہتر ہوتے ہیں۔
جن افراد میں، جذبات کے نظم و نسق، قواعد و ضوابط کی یہ اہلیت مضبوط اور اچھی ہوتی ہے، ان کا شعور اور ادراک بہت عمیق ہوتا ، وہ تدبر و تفکر کے شایق ہوتے ہیں، خصوصا وہ اس بات پہ غور و خوض کرتے ہیں کہ، ان کی تاثیر کیا ہے، وہ دوسروں پہ کیا اثر چھوڑتے ہیں۔
ایسے افراد، اپنے اعمال کی ، فیصلوں کی پوری پوری ذمے داری قبول کرتے ہیں۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.