پوسٹ – 2021-04-04

ملتان ٹرمینل n——————————————–nتو ہوا کچھ ہوں کہ سفر وسیلہ ہجر کیسے بنتا ہے ؟ اس سوال کا جواب آٹھ مئی دوہزار اٹھارہ بروز منگل دوپہر ڈھائی بجے ملا ، جب میں نے اسے فیصل آباد بس ٹرمینل کے پیسنجر لاونج میں دیکھا، میں دیکھتا تو رہتا ہوں، اور اس میں بھی ایسا کچھ خاص نہیں تھا کہ بار بار دیکھتا یا پلٹ پلٹ کر دیکھتا ، ویسے بھی میں رئیل لائف میں نظریں زمین پر گاڑ کر، سوبر بننے کی کوشش کرتا ہوں بس اسی لیے بس کا انتطار کرتے کرتے ، موبائل پر بکھرے ممتاز مفتی کے پیاز کے چھلکے چبانے لگا۔ پڑھتا رہا پڑھتا رہا، حتی کے بس آگئی — اور اس کے ساتھ ہی وہ میرے پیچھے والی سیٹ پر آن موجود ہوئی ۔۔۔اس کی آنکھیں اور ہونٹ نگاہوں سے ہٹیں ، تو لباس کی تفصیل لکھوں جو بس اتنی یاد رہ گئی ہے کہ اس کے لباس میں مجموعی طور پر ہرا رنگ آویزاں تھا – nمجھے معلوم تھا کہ میرے سیل فون کی بیٹری بمشکل ہی کراچی تک پہنچے گی، اس لیے سیل کو فلائٹ موڈ پر کیا کہ جب جب کسی مین سٹاپ پر بس رکے گی ، تب تب گھر پر موجودہ مقام کی اپ ڈیٹ دے دوں گا۔۔ اور یہی ہوا بھی ۔۔ ہاں پھر طے یہ پایا کہ ممتاز مفتی کی ایک دوسری کتاب جس کو پڑھنے کا پلان آٹھ ،دس سال سے کیا ہوا ہےبلکہ پلان بھی کیا کرنا ہے ، سناتھا کہ اس کہانی میں سین بہت ہیں تو بس سوچا کہ پڑھنی ہے اس لیے اس بار کے سفر میں علی پور کا الیاس میرے ساتھ کتابی صورت میں موجود تھا اب فیصل آباد سے ملتان تک کا سفر تو الیاس نے ہم نشین ہو کر گزار دیا ۔۔ نو سو ، ساڑھے نوسو صحفے کی کہانی اگر اکیس گھنٹے میں سے انیس گھنٹے تک جاگ کر پڑھتا تو فی صحفہ ایک منٹ پندرہ سیکنڈ کے حساب سے وہ کہانی بھی مکا دینی تھی، لیکن یہ غیر حقیقی اور غیر فطری تھا اس لیے جذبات کو لگام دے کر نظروں کو ذرا بے لگام کیا تو اور انگڑائی لینے کے بہانے پیچھے مڑا تو دیکھا کہ اس فی الحال کے لیے بے نام ملتانن کی نظریں کتاب کے سرورق پر تھیں گویا اسے یہ تجسس تو تھا کہ یہ بندہ پچھلے چار پانچ گھنٹوں سے پیچھے نہیں پلٹا، ایسا کیا کر رہا ہے کتاب کے ساتھ ؟
بس عورت کے ذہن میں تجسس اور سوال آجائے تو سمجھیں مل گیا بہانہ ، اور انگڑائی کے بہانے ٹیڑھا ہو ہو کر اس کو منظر دینے کا — بار بار پیچھے پلٹنے کا—اچھا یہ میرا گمان ہی ہے کہ اس کو یہ تجسس ہوگا ، ہو سکتا ہے ایسا کچھ بھی نہ ہو جو مجھے لگا – لیکن کیا ہے کہ میں تو وہی سوچوں گا جو میرے دل کو سکون دے — بہرحال اس کے ساتھ اس کی ایک عدد شادی شدہ باجی ٹائپ خاتون بھی تھیں ۔۔ جن کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا تو بچے کی چیاوں میاوں مجھے بار بار پلٹ کر مسکرانے پر مجبور کر رہی تھی — اور نہیں بھی کر رہی تھی تو میں خود کو مجبور کر رہا تھا کہ پیچھے پلٹوں ا سطرح کہ دربار یار میں گستاخی نگاہ بھی نہ ہو اور دیدار بھی پار ہوجائے کہ ہزاروں سال اس کی بڑی بہن اپنی بے نوری پر روتی ہے — اب اس کو تو آئڈیا ہوہی گیا تھا کہ آگے بیٹھا بظاہر لڑکا نظر آتا شخص دلچسپی لے رہاہے ، بس شروع ہوگئے کھٹے میٹھے نخرے – کبھی دوپٹہ سر پر -تو کبھی کندھوں پر ، تو کبھی ایک سائڈ پر تو کبھی نماز کی طرح — غرض کہ میرا وہم تو یقین میں بدلنے لگا کہ استاد سگنل کیچ ہوگئے — جبکہ سگنل دئیے ہی نہیں تھے سوائے بس کچھ کچھ باری پلٹ کر دیکھنے کے – -دو تین بار آنکھوں سے آنکھیں ملیں ۔۔ اتفاقیہ — اس کی طرف سے – اور عادتا میری طرف سے ساری پیش قدمی میری طرف سے تھی — کیا کریں جی؟دستور زمانہ ہے — مرد اظہار کردے تو آزاد ، عورت اقرار کرلے تو قید اس لیے اس کو قید سے بچانے کے لیے اپنی انا پر کوڑے برسائے جا رہا تھا کہ یار اس نے کون سا من جانا ہے — ملتان تک بیٹھی ہے ساتھ )اس کی منزل بھی ملتان پہنچ کر ہی معلوم ہوئی کراچی ساتھ آتی تو کیا بات تھی لیکن خیر کراچی کا حسن اور ملتان کا حسن اس کامطالعاتی مشاہدہ پھر کسی دن سہی ، اس وقت تو بس یہ سوچ تھی کہ یار اب اس کی نظروں میں اپنی کیا عزت بنانی – اورلڑکیاں عزت سے زیادہ ہمت/جرات سے مائل ہوتی ہیں پھر یہ مائل ہو بھی نہیں سکتی ، ہو بھی گئی تو اس کی باجی کے سامنے کچھ کہہ کر لتر نہیں کھانے – نظروں سے اشارے بازی کرکے اس کو پسینجر لاونج میں بلا کر نمبر لینا یا پھر کاغذ پر نمبر لکھ کر دے دینا جیسا شاہ رخ خان پنا ، اپنے سے ہوتا نہیں ،، الہڑ جوانی میں نہیں کیا ،بلکہ ہوا نہیں ۔۔ تو اب بڈھے بارے کیا ہونا – اسلیے – نظریں تو کم ازکم خیرہ کروں ۔۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اٹریکشن لیول کچھ زیادہ ہوگیا تھا اس لیے ٹھرک پر بات ابھی نہیں پہنچی تھی – ظاہر ہے کہ ہر مرد کا منزل مقصود تو ٹھرک ہی ہوتی ہے — پر ابھی ایسا نہیں ہوا تھا – nدفع کریں یار ۔۔میں اس کو سوچتا رہا تو، نہ یہ پوسٹ ختم ہوگی نہ لفظ – اسلیے فی الحال دل کو دماغ سے نکال کر معدے میں میں شفٹ کر کے کچھ کام دھندے یعنی آفس ورک کے بارے میں سوچا جائے تو بہتر ہے بس اتنا بتا دوں کہ ۔۔ قصہ مختصر اور پوسٹ لمبی — ہوا یوں کہ ملتان پر گاڑی نے پندرہ منٹ کا اسٹاپ کیا اور وہ اپنی تقریبا والدہ اور مبینہ باجی کے ساتھ اتری ، گھر کے لیے گاڑی بلوائی اور گاڑی کا سٹاپ طویل کر کے, میری روح کو فریز کر کے — چلتی بنی — جاتے جاتے ایک دو بار دیکھ لیا تھا- ایک بار اس نے ایک بار میں نے — nاوہ ایک بات تو بتانا ہی بھول گیا
اس کو لینے جو گاڑی آئی ٹھی ، غالبا کریم یا اوبر ، جب تک وہ ٹرمینل سے باہر نہیں نکل گئی ، میں سورج مکھی کا پھول بنا رہا — اور کم از کم غیر ضروری طور پر ٹہل ٹہل کر ، چار سگریٹ پی گیا ، پتا نہیں کیوں ، میں دیکھ بھی نہیں پا رہا تھا ، اور نظریں بھی نہیں ہٹا پا رہا تھا ، بار بار پلٹتا ، تو چند ایک بار وہ بھی متوجہ تھی ، خیر نظروں نے شیشے کے بار ،وداع پھینکا ، اور وہ ٹرمینل سے باہر ، ملتان کی چکا چوند رات میں گم ہو کر ، میرے باقی ماندہ سفر کو اندھیر کر گئی -nدیکھیں اگلے ٹور میں یہ قصہ آگے بڑھا تو ایک پوسٹ آجائے گی nخیر مجھے ، اس کی شکل یاد ہے ، زیادہ تصور میں لایا تو پھر ٹکر جائے گی ، جانتا ہوں ، اس لیے بھی جان بخشی ہوئی وی ہے ، کہ اب تک تو شاید کہانی نمٹ گئی ہو اس کے ، سفر ہجر کی ، اور پیا دیس سدھار گئی ہو- خییر
ملی تو پھر ملیں گے nورنہ nشاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
پر پوسٹ سب پہ لگاتا رہا ہوں میں nنوٹ: پوسٹ کو پوسٹ کے معنوں میں ہی لیا جائے ۔۔nnجولائی – دوہزار اٹھارہ

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.