جانتا ہوں اس بار ، جب ، دیوانگی ، فرزانگی میں ڈھلے گی تو ، شاید ، کئی شاموں کی سرنگیں ، کئی راتوں میں انڈیلی جا چکی ہوں ، کئی لفظ ، شخصیات بن چکے ہوں ، اور کئی ہستیاں محض پھٹے کاغذ ہیں ، اس بار ، جب آنکھوں کی تیوریاں نیچے ہوںگی ، اس بار جب بھنچے ہونٹ ، اور دکھتی آنکھیں سکون پائیں گی ، تو شاید ، لمحے زمانے کی چال کے ساتھ قدم ملا چکے ہوں اور ،شاید اس بار ، جب لب ، ، کھلیں تو ، شاید ، کئی ادھڑے تعلقات کو ، حیا آجائے ، شاید اس بار ، دماغ کی کیفیت ، سوچ کی رو، تھاٹ پیٹرنز کی الائنمنٹ کا بگڑنا ہی ، اس کا واحد سلجھاو ہے شاید اس بار ، کالی راہیں ، محض ، ایک سرنگ نہیں بلکہ ، زندگی کی پوری بساط ہیں ، پر شاید اس بار ، آنکھیں کو بے دید سفید پتلیاں ، زمانے کے پار دیکھنے کے لیے پر تول رہی ہیں شاید اس بار ، نظر انگڑائی لے کر ، نگاہ بن رہ ی ہے شاید ، دید کی پیٹھ سے بصارت ، پر بنی اگر رہی ہے ، شاید ، اس بار ، آسمان ، اور زمین کے ملنے کی جگہ ، حقیقت میں وہم سے نکل کر باہر آگئی ہے شاید اس بار ، ایٹم میں ، سولر سسٹم اور
اوپر لامتناہی نظام شمسی بلکہ کائنات کے سربستہ راز، ستارے سیارے کہکشائیں ، سب ، الیٹکرون پروٹون نیوٹرون سے بھی چھوٹۓ ہو کر ، مائکرواسکوپ کا ایک ہذیانی مذاق بن جائیں شاید اس بار، ایٹم کو تھیوری میں لپیٹ کر دنیا بدلنے والا ، بوہر اور ردر فورڈ نامی ، سائنس دان ، محض ، ایک کلاون لگنے لگے
شاید اس بار ، اگر انگلیوں سے خون کی جگہ لفظ بہنے لگیں تو بھی حیرت نہ ہو ، شایدشاید اس بار ، آئن سٹائن کی ٹائم اینڈ سپیس اور نیوٹن کی کشش ثقل ، ایک دوسرے کو لہو لہان کر کے ،n” اپنے من میں ڈوب کر ، ابھرنے کا ، سراغ، ڈھونڈ کر ، زندگی کے کانٹے تاج بنا کر ، ، حقیقت کے سر پر سجا ڈالے ۔
شاید اس بار ، جذبات کے درد زہ میں مبتلا ، عقل ، منطق کو جنم دے ۔۔
شاید اس بار ، تنہائی میں ، بکھرتی سانسیں ، واہمے بنتے تعلقات ، ہوا کے اکیلے مالیوکیول ، میں ، رزق والے فرشتے کی ، مسکراہٹ نظر آنے لگے
شاید اس بار ، صور ، خاموشی اور خاموشی میں ، صور ، سنائے دینے لگے اور دونوں ایک دوسرے ، کے برابر ہوجائے
شاید اس بار ، صوتی اثرات ، کچھ ویسے ہوں کہ ، خاموشی اور شور بے معنی ہوجائیں
شاید ، اس بار ، چاہت کے سامنے سربسجود ، سر پر شفقت کی تھپکی محسوس ہو
شاید اس بار ، نشے میں اترنا ہی ، حل ٹہرا
شاید اس بار ، محبت ، کے گلپڑھوں میں ، ، حقیقت ، سانس کی ڈوری سے بندھی اترے ، اور محبت پھر بھی آزاد گھومتی پھرے
شاید ، اس بار ،
شاید اس بار
شاید ہر بار
شاید ہمیشہ
شاید اس بار ، شاید ، اگلی بار ، شاید ، ہمیشہ ،
شاید یہ زمان و مکان اور گمان کے استعارے ، اہم ہی نہ رہیں
کہ
زندگی اس شعر کی سی ہوجانے والی
جس کے مفاہیم کو سمجھنے کے لیے شاید ایک نئی تہذیب کا جنم ابھی ہونا ہے کہ ، وہ بند کچھ کہتے ہیں کہ ،
ہم ساتھ رخصت ہورہے ہیں
لیکن یہ پھر بھی ایک الوداع ہے
شاید ہم واپس آئیں
زمین پر ،
پر یہ کون کہہ سکتا ہے
شاید اس بار الزام کسی کے سر نہیں
ہم فضا میں معلق ہورہےہیں
ہم اوپر اٹھ رہے ہیں
اور اب چیزیں ، ویسی نہیں رہیں گی
کیوں کہ ، شاید یہ حتمی الٹی گنتی ہے
شاید ہم کسی اور سیارے پر اتریں
تو وہاں خوش آمید ہم سے لپٹ جائے
کیوں کہ شاید وہ ہمیں دیکھ چکے ہیں
اور شاید ، ہم ایسا ہو کہ ، ہم ،
لاتعداد نوری برسوں کے انتظار کے بعد
یہ پتا چلا سکیں کہ
ہم
نے کیا کھو دیا
ہم نے کسے کھو دیا
ہمیں کس نے کھو دیا
پر شاید اس بار
ہوش نہیں ہےاب ،ہوش نہیں
چھایا ہے مجھ پہ نشہnThose Were the Best Days of My life – سے اقتباس
پوسٹ – 2021-04-04
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد