خونی” رشتے nnپہلی قسطnnاگر تم بڑے ہو کر ڈاکٹر/انجینئر نہیں بنے تو ہمارا نام خراب ہوجائے گا””nتمھیں کس نے کہا ہے ، تم خوبصورت نہیں ہو ، بیٹا تم بہت خوبصورت ہو ، بالکل اپنی ماں کی طرح” “n”اور زیادہ پڑھتے تو، مزید اچھے نمبر آجاتے، ہم تم سے زیادہ جانتے ہیں ، ہم بھی اسی عمر سے گزرے ہیں ، تم نے اتنا پڑھا ہی نہیں ہوگا ، ورنہ مزید اچھے نمبر آتے”nمتواتر ا یسے جملے سنے ہوں گے
افراد ایسی باتیں ، اکثر اوقات ، بے جا طور پر ، نارسسٹک یعنی ، خود پسند/نرگسیت کے ذہنی عارضے کا شکارد کرتے ہیں ، خواہ ، خونی رشتے دار ہوں ، یا جنونی ۔ دور کے ہوں ، یا فریب ، سوری قریب کے، ویسے سب جگہ نہ سہی ، پر اکثر کیسز میں ، قریب کا رشتہ فریب کا رشتہ ہوتا ہے فریب کو آپ ، جذباتی دھوکے باز سمجھ لیں ۔ nجس کا کام ، جذباتی استحصال سے شروع ہوتا ہے اور اسی پہ ختم ہوجاتا ہے nخیر، nNarcissist personality Disordernکو پہلے مان لیا گیا کہ یہ بیماری ہے ، پھر بعد میں ڈیینائ کردیا گا ، اغلب گمان یہ ہے کہ ، اس سے ماہرین نفسیات ، جو اکثر سے بھی زیادہ خود ہی nNarcissistic ہوتے ہیں ، ان کے لپیٹے میں آنے کا خدشہ تھا
سب کی بات نہ سہی پر پاکستانی تو اکثر سے زیادہ بھرے پڑے ہیں ، خود پسندی کے نفسیاتی عارضے سے
رشتے دار ہوں ، یا ماہرین نفسیات
چھوٹی سی مثال n”بیٹی مار کر خود کشی کرنے والا ذہنی مریض ماہر نفسیات” اس
کی خودکشی کی جسٹی فکشن اس کے پیٹی بھائوں کی طرف سے آنا ، nکیا مطلب ہے اس کا ؟nNarcissistic defense mode nاور کیا ؟
خیر اس طبقے کی ، چھترول کا یہ موضوع نہیں ، nبہرحال ، nNarcissist personality Disordernاگررشتے داروں میں ہو تو اسے یوں سمجھ اجا سکتا ہے کہ nایسا شخص ، اندھا دھند – nPossessive ہوجاتا ہے nتھوڑا بہت نہیں ، غیر متوازن حد تک ، npossessivenاسے اپنے سے چھوٹے سے بھی مقابلہ کرنا ہوتا ہے
ایسے ہر شخص کو ، دوسرے کی آزادی ، یعنی اپنے سے چھوٹوں کی آزادی ، اپنی بقا کے لیے خطرہ لگتی ہے ، خواہ سامنے والا کتنا ہی سپورٹو کیوں نہ ہو
ایسا شخص وہ برگد بن جاتا ہے جس کے سائے میں ، کوئ نہں اگ سکتا ، جس کے ساتھ یہ گزری ہو ، جس کا پالا ایسے nNarcissistic nافراد سے پڑا ہو، اسے شاز و نادر ہی اپنے وجود /شخصیت کی کسی بھی خوبی پر پیار یا خلوص ملتا ہے
وہ جیسا ہے ، ویسا ، نارسسٹ افراد کو قبول نہیں ہوتا ، خواہ ان کے لیے مفید ہی کیوں نہ ہو nایسے بچوں پر بہت ریسرچ کی گئی ، جو ایسے ماحول میں پلتے بڑھتے ہیں
بہت سے متنوع بیانات میں اک قدر مشترک تھیn”Know It all”nذہنیت ، یعنی ان کے گھر میں n”ہم بڑے ہیں تمھارا بھلا برا تم سے زیادہ جانتے ہیں
اب تم ہمیں سکھاو گے”nہم نے دنیا دیکھ رکھی ہے ،
جسے جملے بہت بولے جاتے رہے تھے nاچھا ایک چیز اور
یہاں آزاد ی دینا ، بے راہ روی نہیں ، رہنما یعنی سمجھا بجھا کر ، آزاد چھو ڑ دینا ، اور مداخلت کیے بغیر مانیٹر کرتے رہنا ، ہے ، کیوں کہ بہرحال زندگی کا تجربہ میٹر کرتا ہے ، پر زندگی کا تجربہ عقل کل نہیں بنا دیتا ، nخدائی صفات نہیں دے دیتا، دوست بنا کر ، اعتماد میں لے کر بھی قائل کیا جاسکتا ہے ، راہ سجھائی جا سکتی ہے
راہ سجھانا ، نارسزم نہیں ، راہ بنانا اور اس پر دھکیلنا ، وہ بھی اس طرح کی باتیں کرکے n”سب کررہے ہیں ، تم بھی کرلو” کے نام پر، nناک کٹ جائے گی ، خاندان میں کیا منہ دکھائیں گے nیہ نارسزم ہے ۔ nانسان کو ، اک حد تک سوشل ویلیڈیشن چاہئے ہوتی ہے
سوشل پروف، پہچان ، یہ سب درکار ہوتا ہے nاس میں قباحت کوئی نہیں ، پر یہ کام اسے اپنی کوششوں سے کرنا چاہئے نہ کہ ، دوسرے کی زندگی رول کر ، اس پہ اپنی محروموں کا اطلاق کرکے
اور-پاکستان میں تو ، خود پسندی ، نرگسیت کا ذہنی عارضہ ، انتہائی ہولناک شکل میں موجود ہے nکیوں کہ یہاں ، جذباتی استحصال کے لیے قرآن و حدیث کا استعمال کیا جاتا ہے ۔
رشتے داروں کے حقوق، ایک ہی سائڈ پر سنا سنا کر، مذہب / تعلقات کو زہر کردیا جاتا ہے
دوسری سائڈ کا تذکرہ کیا جائے تو یہ والا انجکشن تیار ہوتا ہے
بھئی اس کے اعمال اس کے ساتھ nاور یہ کہا جائے nتو پھر ہر کسی کو اس کے اعمال پہ جینے دیں ، nاک طرف کیوں باونڈ کررہے ہیں nتبلغ دونوں طرف کریں تو پھر لایا جاتا ہے
سب سے مہلک کارڈn”ہم سے سیکھ کر ہمیں سکھا رہے ہو”nیاد رکھیں جس طرح nPsychosis یا دوسر ی ذہنی بیماریاںnChronic nیعنی اک بار حملہ آور ہوئی ، پھر لمبے عرصے کے لیے چھپ گئی ، پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ پلٹ آئی nنارسسٹک پرسنالٹی ڈس آرڈر کا بھی یہی معاملہ ہےn”لوگوں کی نظروں میں اچھا بننے کی ترغیب”nبہت زیادہ امیدِیں باندھ لینا
شدید ترین سختی کامظاہرہ nخصوصا جب ، وکٹم یعنی جس کا پالاnNPD کے شکار بندے سے پڑگیا ہو
تو ظاہر ہے ایک حد کے بعد جا کر اس کے رویے میں تباہ کن تبدیلیاں آئیں گی nاور اس صورت میں اس پہ مزید سختی
اور پھر یہ خواہش کہ nاس نے ہمیں “پراوڈ” نہیں کیا
نام روشن نہیں کا ، فخر کا باعث نہیں بنا nیعنی پہلے اس کی ایسی تیسی پھیرتے رہے nپھر بعد میں جب وہ nDistort ہوگیا
تو کہا کہ یہ تھا ہی ایسا
سوچِیں جس معاشرے میں n”اپنا مارے گا تو چھاوں میں ڈالے گا” جیسا محاورہ ، سنا کر، رشتے تعلقات کی قدر سکھلائی جاتی ہو ، وہ معاشرہ nنرگسیت / خود پسندی کے ذہنی عارضت کی کس نہج پر اتر چکا ہوگا۔
پوسٹ – 2021-04-10
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد