یہ قصہ ، nنگہت حسین ، صاحبہ کی ، پوسٹ پڑھ کر یاد آگیا
پوسٹ کا لنک یہ ہےnnhttps://www.facebook.com/umme.ahmed.5648/posts/536159880705794nnوہ پڑھنے کے بعد ، یہ پڑھیں
میں پہلی بار ان کی وال پر گیا کہ nمجھے جس نے وہاں ٹیگ کیا تھا ، اسے پتا تھا ، کہ میں خواتین کی پوسٹس پڑھتا ہوں بس
اور پھر یہ تو میرا فیورٹ موضوع ہے اس لیے ، پوری پڑھ لی ، اور اب ہو سکتا ہے آتا جاتا رہوں
بہرحال nnپہلے نگہت صاحبہ کی پوسٹ پڑھ لیں اس لنک پر nnhttps://www.facebook.com/umme.ahmed.5648/posts/536159880705794nn پھر چاہیں تو درج ذیل بھی پڑھ لیجئے گاnnایک صاحب ایک بظاہر اسلامی سے اسکول میں جاب کرنے گئے nان کا شک ہے کہ ، وہ اسکول والے بڑے مذہبی تھے، کسی سیاسی مذہب فروش اسلامی تحریک سے وابستہ بھی ، لیکن کنفرم نہیں ، پر جو اس پرنسپل خصوصا اس کے باشرع شوہر کی حرکت انہوں نے بتائی ہے
آپ کو بھی وہ وہ وہی لگیں گے خیر nان کا تجربہ پڑھیں nاسکول کا نام نہیں لکھ رہا ، نہ بندے کا ، کہ اس کی بات امانت ہے nلیکن اسکول nلیکن عثمان یا انسپی ریشن نہں تھا لولn-وہاں کی الگ کہانیاں ہیں nپر۔ خیر یہ اسکول گلستان جوہر میں تھاnnاگلی بات انہی صاحب کی زبانی سنئےnn”مجھے کہا گیا ، ایک سبجیکٹ پڑھائیں ساتویں اور آٹھویں کے بچوں کو ، nپیسے کتنے لیں گے ؟ nاس کا تجربہ کافی تھا ، کہتا ہے ، پچیس ہزار، nانہوں نے اٹھارہ کہا ، اور وہی تحریکی رنجی رونے بغیر واضح کیے کہ ہم تو بچوں کی بھلائی کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ nاس نے جوائن کرلیا
اب nوہ ریاضی ، فزکس ، کمپیوٹر ، پی ٹی ، لائبریری ، سپورٹس ، لیب سب کروا رہا تھا کچھ دن میں ، nہائر حالانکہ وہ ایک سبجیکٹ کے لیے ہوا تھا اٹھارہ ہزار میں اور، وہ بھی بڑی کلاسز کے لیے
جب کہ پڑھا اب ، وہ دوسری تیسری کو بھی رہا تھا
خیر پڑھاتا رہا اور
کچھ دن بعد پتا چلا ک
یہ دونوں ، میاں بیوی ، یعنی پرنسپل بیوی اور اس کا نماز ی پرہیزگار ، باریش ایڈمن شوہر nاس ٹیچر کے جوائن کرنے پہلے بچوں کے اماں ابا سے ، کمپیوٹر لیب کے نام پر تین چار سو وصول کرچکے تھے ، جو انہوں نے اسکول میں ہی لگائے nاس نے خیر، جب کمپیوٹر لیب کروانا شروع کی ، تو اک پی سی پر چار بچے nکبھی کی بورڈ خراب تو کبھی نیٹ کا مسئلہ تو کبھی لائٹ جائے ، جنرہیٹر تھا
پر اتنی ڈسکٹریشن میں بچے کیا پڑھتے nمہینہ پورا ہونے پر ، پرنسپل صاحبہ نے جعلی سی مٹھاس میں اس سے پوچھا nسر وہ بچے کمپیوٹر پہ کچھ سیکھ نہیں پا رہے ، کیا پراگریس ہے
اس نے بچوں کی رزلٹ رپورٹ دکھائی جس میں امپرومنٹ تھی
کیوں کہ اس کے ہائر ہونے سے پہلے ، انہوں نے ، انگلش کی اک خاتون ٹیچر کو ، کمپیوٹر ٹیچر بنایا ہوا تھا ،
یہ مذہبی بردہ فروشوں سے بھری سیاسی جماعت والی ذہنیت ہے ، انگریزی آتی ہے تو کمپیوٹر بھی آتا ہی ہوگا لول
خیرجب اس نے کہا کہ nمیم ، کمپیوٹر لیب میں یہ یہ مسئلے ہوتے ہیں nتو اس عورت نے اپنے شوہر کو بلوا لیا ، جس کے زیر انتظام تھی لیب
ان شارٹ اس نے اپنی نااہلی ، ٹیچر کے سر ڈال کر ، اسے نوکری سے نکال دیا
ٹیچر نے جاتے ہوئے پوچھا
سر کوئی وجہ بتا دیں ، ڈسپلن ، ٹیچنگ سٹائل یا بچوں نے کوئ کمپلین کی وغیرہ وغیرہ تاکہ میں اگلی جاب میں خود کو امپروو کرلوں nnپر بقول ان صاحب کے ابلیس فطرت باریش بے غیرت یہی کہتا رہا ، بس آپ ہمیں سمجھ نہیں آئے nاس نے کہا ، سر میں نے آپ کو سمجھ آنا بھی کیوں تھا، میں بچوں کو، سمجھ آرہا تھا ، آپ ایک مہینے پہلے کے ٹیسٹ رزلٹ دیکھیں اور میرے آنے کے بعد ، دیکھ لیں ، امپرومنٹ ہیں مارکس میں یا نہں ؟
اس بات پر وہ بار بار یہ کہتا رہا کہ ، نہیں بس آپ سمجھ نہیں آئے ، یعنی وجہ نہیں بتائی ، آپ چل نہیں پارہے nاس نے پھر وجوہات پوچھیں پر وہ سیاسی مذبی فرعون ، نہ بتا سکا۔
خیرnnاک دو چزیں مزید ہیں اس قصے میں ، کہ اس ٹیچر کو نکالے جانے سے اک دن پہلے ، پرنسپل صاحبہ اسے ، ترقی دے کر nسیلری بڑھا کرnParent – Teacher Counselor nبھی بنانے لگی تھیں nکہ اس نے بچوں کی اماوں اور اباوں کو بہت تمیز سے ڈیل کر کے اسکول کے سر سے، ماں باپ کے طعنوں کی بندوق ہٹوائی تھی کہ آپ نے، اکسٹرا فیس لے لی لیکن ، بچوں کو کمپیوٹر نہیں آتا – -وغیرہ وغیرہ nدوست کے بقول پتا نہں اک مہینے میں nمارک زکر برگ بن جاتے بچے ان کے لول ۔۔ nخیر ۔۔ اب یہ سارے جراثیم سیاسی اسلامی مذہبی بردہ فروشوں والے ہیں ، اس کو شک ہوا تھا پروہی بات ، کنفرم نہیں کیا — اس نے
پوسٹ – 2021-04-11
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد