زہریلے / Toxic افراد ، جراثیم کی طرح ہوتے ہیں ، موسٹلی , people pleaser، اسلام پہ لپیٹ کر ، تعلقات ، حقوق العباد وغیرہ کی باتیں کرنے والے ، جب کہ ، پروا صرف انہیں ، اپنے “ناجائز” حق کی ہوتی ہے کہ بس ان کا پورا ہوتا رہے باقی سب بھاڑ میں جائیں ، جب ان سے کوئی مطالبہ یا امید کی جائے تو وہ ٹیاوں ٹیاوں کرتے بھاگنے لگتے ہیں ، ایسے افراد کے خلاف جب بھی کچھ کہا جائے گا تو ، انہیں لگے گا ، اسلام پر حملہ ہو رہا ہے ، یہ پھر بھاگ کر ، اللہ کے نبی کی وہ مثالیں دیں گے جو انہیں سوٹ کرتی ہیں اور جواب میں جب انہیں وہ مثالیں دی جائیں ، نبی کی سیرت سے ، جو انہیں سوٹ نہیں کرتی ، یا جن سے ان کے مفاد پرست موقف اور دلیل کی نفی ہوتی ہے تو ان کا پھر ایک، Cliche سا جملہ ہوتا ہے n”بھئی کہاں وہ اللہ کے برگزیدہ افراد ، کہاں عام انسان ” ، nجب کہ ، مدعے میں سیرت لائے بھی یہی ہوتے ہیں nخیر ، جب ایسے لوگوں کے خلاف کچھ کہا جائے تو ، ان کو رشتے تعلقات ، اسلام ، سب ایک ساتھ ، قے کی طرح آجاتا ہے nبھئی ظاہر ہے ، زہریلے شخص کا علاج ہوگا تو ، شور تو مچائے گا اپنے زہر کی بقا کے لیے-

اترك رد