پوسٹ – 2021-04-28

کمسنی میں جب دن میں دو دو بار الہام ہوتا ہو، ذمے داریوں کا ایز سچ بوجھ نہ ہو، پڑھائ کے لیے، پیسے ابو سے اور n’کس ماں سے بات کررہے ہو’ والی اماں سے، بات کرنے کے لیے، امی کا آنچل کھینچا جاتا ہو ، یونی ورسٹی میں، بچی کو گائے کی طرح گھمایا جائے، لیکن شادی ک بات کرے ‘بابو’کو گلے پہ چھری پھرتی محسوس ہوتی ہو، یا بابو اگر سلاجیت کھا کر ہمت کرہی لے، تو ‘بےبی’ جلدی کرو، میرے رشتے آرہے والا پرانا اور آزمودہ کارڈ استعمال کرے، nجب معاملات یہ چل رہے ہوں، تو اوورل آپٹی میزم / مثبت سوچ،/روشن خیالی/ آگے بڑھنے کا عزم ، گھر کی لونڈیا لگتا ہے، nلیکن زندگی جب اپنی تمام تر بدصورتیوں سمیت آکر بغل گیر ہوتی ہے نوکری کے لیے، دھکے کھاتا، گھر میں پڑا جوان لڑکا کھٹکنے لگتا یے، باںو بےبی۔ کمسنی کہ ںے وقوفی سمجھ کر ‘کیریر بنا رہا ہوں’، ‘کیا کرتی ، کتنا انتظار کرتی، رشتے آرہے تھے، پر سچا پیار تمھی سے کرتی ہوں’ کی گرد میں اڑا دی جاتی ہے، پھر سب سے پہلے جو چیز بند ہوتی ہے، وہ ںاقاعدگی سے۔ مثبت انگیزی کے ہارمون، اور پھر دون میں دو تین بار الہام، پھر سمجھ آتا ہے، کہ باپ کی جیب سے پیسے اڑا کر، دنیا کی ہر تلخ حقیت فضول بات لگتی ہے، کیوں کہ اسے دیکھنے کی عینک پر لگے شیشے باپ کمائی کی دین ہوتے ہیں۔
پر جب بچی دور، نوکری فضول، گھر والوں کی نگاہیں خشمگیں، تو سمجھ میں آتا ہے، زندگی عمیرہ احمد کے ناول یا منٹو کی کہانی نہیں۔۔ زندگی بس زندگی ہے۔۔ nادراک کے تلخ گھونٹ پی کر، مثبت رہتے ہوئے گزارنی ہے، لیکن مثبت وہ جو گنے کے کھیت میں محنت سے اگے، نہ کہ سکرین یا کینڈرل والی مصنوعی مٹھاس۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.