پوسٹ – 2021-05-02

ایک متفق علیہ قسم کا کھوتیا صحافی کہتا ہے کہ nیار آپ کا رویہ ٹھیک نہیں ، آپ کے بارے میں لوگ یہ کہتے یہں لوگ وہ کہتے یہں — وغیرہ وغیرہ یعنی اپنی کھدی ہوئی فطرت کو لوگوں پر رکھ کر مجھے سنا رہا تھا کہ خود کہنے کی جرات نہیں تو صحافتی ذلتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے باوثوق ذرایع کی بہن فروشی کررہا تھا ، کھسی بکرے ٹائپ میڈیا کی تشریف میں بس اتنا سا تپڑ ہوتا ہے کہ یہ لوگ ذرایع کا نام لیے بغیر بات کرتے ہیں اور پھر جو بھونکنا چاہیں بھونک دیتے ہیں ،خیر میں اس کھوتیاماس کوم کے ذہنی مریض کی بات پر nہنسا اور کہنے لگا، کہ دیکھو خلائی کھوتے ، بات اتنی سی ہے کہ میری زندگی ایک جبر مسلسل ہے nمیرا رویہ میرے ذہنی مریض ہونے کی عکاسی کرتا ہے nمیرے تو وجود سے بھی لوگوں کو تکلیف ہے ، nمیں بولتا ہوں تو بات کاٹ کر تہذبیب کا مظاہرہ کرتے ہیں
غصے کو کنٹرول کر کے لمبی لمبی سانسیں بھروں تو لوگوں کو تکلیف ہے nبات کرتے کرتے بلکہ سنتے سنتے مسکرا دوں تو اسے طنز سمجھا جاتا ہے nتو یہ بات طے ہوگئی کہ میں ایک اذیت ہوں جو کسی کی سر میں، کسی کی آنت میں مکان بنائے رکھتا ہوں ۔۔
ایک کام کرتے ہیں ، میں اپنا رویہ مستقل تو بدل نہیں سکتا لیکن چونکہ آپ کو آج کل زیادہ مرچیں لگی ہوئی ہیں، آپ شادی شدہ بھی نہیں ، اس لیے ہارمون جہاں خرچ کرنے ہیں وہاں ہوتے نہیں تو پھر سر پر سوار ہے ، اور دوسروں کو غلط ثابت کرنے کا جراثیم صحافت اور فطرت کی دین ہے ، کچھ وجہ آپ کے ایج گروپ کا بھی ہے ، تو میں ایک کام کرتا ہوں nدیکھئے آپ کی نظروں میں آپ دنیا کے عقل مند ترین آدمی ہیں ، اور میں نفسیاتی مریض nٹھِیک ہے۔۔ اب اگلے ایک مہینے تک جب تک یہ پروجیکٹ چل رہا ہے ، جو آپ نے مجھے دیا ہے ، اور اس کی ذمے داری مجھ پر ہے – اس پروجیکٹ کی تکمیل تک – میں آپ سے آپ کی ہی طرح بے ہیو کروں گا- اپنا آپ بالکل بیک فٹ پر لے جاوں گا تاکہ آپ کو اور مجھے ایک دوسرے کا کام اتارنے یعنی کام کرنے میں کوئی پرابلم نہ ہو۔۔
یہ کہہ کر میں نے کش کھینچا اور اس کی جانب دیکھا کہ وہ اس آپشن کو منتخب کرتا ہے یا نہیں ۔۔
وہ پہلے مخصوص کنجر سٹائل میں مسکراتا رہا، nپھر کہنے لگا
زوہیب بھائی ، یہ تو پھر کام نہ کرنے والی بات ہوئی ، آپ تو ناراض ہوگئے ، میں نے کہا کہ برادر ایسا نہیں ہے nمیں ناراض نہیں ہوا میں خوش ہوں اس آپشن سے –nاس نے ہنس کر منع کردیا
میں سوچنے لگا
یار اسے نہ میں قبول ہوں ، اسے نہ اپنا آپ قبول ہے ۔۔بھینس کی ٹانگ ، بندہ کرے تو کرے کیا ، اس کھوتیا معاشرے میں ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.