ایک ہفتے کے اندر اندر دو ایسی خبروں پہ اس قوم کا ذہنی بٹواراnnناڑا مہنگا ہے ، ناڑا سستا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
فردوس اعوان نے ٹھیک کیا یا پھر اے سی مظلوم ہے،
صحیح، کہتے ہیں Farhan Zafar ، nجب آپ ، ریلیونٹ ایشوز سے نظریں چرائیں گے، لائک شخصی بہتری، گھریلو مسئلے، جن کو کنفرنٹ کرنا چاہے، نوکری/ فیملی، وہاں سے ‘مروت’ کے کور میں بزدلی کا اظہار کرنا، کہ کمفرٹ زون نہ ٹوٹے، تو ،جذبات پھر بوٹلڈ ہو کر، پیسو اگریشن بنتے ہیں، اور ایسی غیر متعلق چیزوں پہ نکلتے ہیں، جس کا آپ کو براہ راست نہ فائدہ نہ نقصان۔
اہسے پر ایشو کی ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتے ہر شخص کی وال وذٹ کریں، حرام ہے کوئی، اوریجنل چیز ، کوئی مفید چیز (جس میں اس کی اپنی کانٹری بیوشن ہو) مل جاہے۔ یا تو یہ سب بھرا ہوگا یا پھر۔ قال اللہ قال الرسول، وہ بھی فارورڈ شدہ، اس پہ اس کا اپنا تدبر و تفکر ہرگز موجود نہیں ہوگا۔۔
اور یہ لوگ نوکر شاہی کو مسئلے کہ جڑ کہتے ہیں، خود کیا ہیں، یہ نو سے پانچ کے غلام ؟ 🙂
پوسٹ – 2021-05-03
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد