خودپسند کا شکنجہnnساتویں قسطnnنارسسٹ اپنے شکار کی بے وقعتی اوربے توقیری کا آغاز کب کرتا ہےnnجیسے ہی آپ کسی نارسسٹ (خود پسندی کے ذہنی عارضے کا شکار) کے ساتھ تعلق خواہ پروفیشنل ہو یا پرسنل، زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ وہ اپنا بے وقعتی والا چکر بہت جلد شروع کر دے گا
چونکہ،شروع میں اس نے، آپ کو ایک بڑے سنگ محاسن بٹھا کے ایک طرح سے، آپ کی پوجا شروع کر دی تھی، آپ کو بہت پیمپر آپ کا بہت خیال رکھا ،آپ سے بہت پیار کیا ،آپ سے یہ اظہار کیا کہ آپ کے علاوہ دنیا میں کوئی نہیں ہے، لاڈلا بنا کے رکھ دیاn( تنظیمیں اور ادارے کیسےگھیرتے ہیں؟)nماہرین نفسیات جو کہ خصوصی طور پر نارسزم پر ریسرچ کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ، ان کا اندازہ ہے
کہ نارسسٹ، اپنے شکار کو، بے توقیر اس لیے کرتا ہے کہ چونکہ نارسسٹ کا انحصار، اپنے پارٹنر کی، اس خصوصیت اور اہلیت پر ہوتا ہے ،جس کے، ذریعے، ان نارسسٹس کی جھوٹی، عزت نفس کو بڑھاوا ملتا رہے ،اور ان کی انا کی تسکین ہوتی رہتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ، nان کی جھوٹی/خبط عظمت (false sense of superiority)nلیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، جب ان کے شکار کی آنکھیں کھلتی ہیں، انہیں پتا چلتا ہےکہ ،یہ سب ایک مقصد کے نام پہ محض، ایک شخص کی اپنی، ذہنی تسلی اور ذاتی انا کے لئے تھا، یہ فلاں شخص جو ، ایک مخصوص قومیت کے غم لے کر، مڈل کلاس عوام کے حقوق، کراچی ہمارا ، کراچی سب کا، اقلتیوں کے حقوق، محض اس کا لیڈر مسیحا، یا پھر، ریاست مدینہ ، اسلامی نظام، تبلیغ، قال اللہ قال رسول، اللہ کا کام ، کوئی فلاحی کام ، اسلامی جماعت کا منشور، اللہ کی زمین اللہ کا نظام لے کر آیا تھا، تو ایسا ہرگز نہیں،
ہاں اس کی ںاتیں بہت مناسب تھیں، شاید، کچھ افراد کی نیت بھی ٹھیک ہو لیکن، اکثریت کی قلعی جب کھلتی ہے، تو وہ شخص آہستہ آہستہ ‘حقیقت’ کی طرف پلٹتا ہے، nاور جس لیڈرشپ، جس انفرادی شخص، جس ادارے کے سربراہ کو وہ اللہ کا ہرکارہ، سمجھ کر اس کام میں شامل ہوا تھا وہ محض ایک خام / عام آدمی بن کر رہ جاتا۔
پوسٹ – 2021-05-06
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد