پوسٹ – 2021-05-07

خود پسند کا شکنجہ nnچودہویں قسط nnاور اگر یہ لوگ آپ کو آزادی دے بھی دیں پڑھنے کی ، اور آپ ، ان کے اعمال پر اعتراض کریں تو، پھر یہ سامری کا بچھڑا بن جاتے ہیں nلائک ، پوری دنیا کو تبلیغ کرو ، لیکن ان پر سوال اٹھایا توn”زیادہ پڑھںے سے استاذہ کے بغیر پڑھںے سے یہہی ہوتا ہے “nبندہ پوچھے ، تفاہیم کس نے لکھی ہیں ؟۔
انہی تفاہیم ، پر انہیں تولیں تو ، ان کی چیخیں نکلتی ہیں
پھر یہ کہتے ہں nسب کچھ فیس بک ہر ڈال دیتے ہو
مناسب فورم پر بات کرو
یا پھر پرسنل اٹیک کرتے ہں nتو یہ سب ncognitive dissonancenتخلیق کرنے کے طریقے ہوتے ہیں ، جہاں آپ ہلکے پڑے ، آپ کے حلقے پڑجاتے ہیں nاور پھر ، جب ، آپ اس چکر میں پڑ جائں تو ، آپ خودترسی کا خود ملامتی کا شکار ہو کر ، اپنے nاس ٹراما / زخم کی شدت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں nجس کا نیتجہ آپ کو بس اتنا ہوتا ہے کہ ، آپ وقت آنے پر
دھتکار دیے جاتے ہیں nجب آپ مکمل بے وقعت کردجئے جائیں nکیونکہ ، یہ ndissonance nمحض ، خود کو یہ باور کروانے کی کوشش ہوتی ہے ، کہ ، آپ ، اپنے nنارسسٹ کے ساتھ زندہ رہنے اور جینے کی سر توڑ کوشش کررہے ہیں ، اور آپ اس شخص سے بہت محبت اور اس کی کئر کرتے ہیں
کبھی اسلام کے نام پر nکبھی ، اسلامی جماعت کے نام پر
کبھی امت کے درد کے نام پر
کبھی مروت زدہ رشتے داری یا لوگ کیا کہں گے کے نام پر
اور جب یہ سب آپ سے تھک جاتے ہیں تو آپ کو ٹشو بنا کر ڈسٹ بن کرکے ، کسی اور کی تلاش میں چل پڑتے ہیں

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.