یہ بات تو طے ہے کہ انڈین میڈیا والے سب نہیں لیکن زیادہ تر پاکستان والوں کو صرف گندا کرنے ٹاک شوز میں بلاتے ہیں ۔۔ ڈسکشن کرنے کے لیے نہیں ۔۔ یہ تو ہوا ایک مسئلہ nnاب کرنا کیا چاہئے ؟
پاکستانی میڈیا کے جید قسم کے اینکر ۔۔ جو تاریخی حوالے جانتے ہیں ان کے ساتھ جوائنٹ شوز ۔۔ یعنی اینکر ادھر سے بھی ہوں اور ادھر سے بھی اکیلے نہ بیٹھیں ان کے ساتھ نہ ان کو بٹھائیں اپنے ساتھ ۔۔ یہ بات یاد رکھیں غزوہ ہند کی احادیث پر ایمان اپنی جگہ لیکن ایک بات یاد رکھئے جب تک وہ وقت نہیں آتا۔۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارتیوں کو ڈنڈا صرف ٹاک شوز میں دیا جاسکتا ہے ۔۔لاجلکل اور تاریخی ریفرنسز کو استعمال کرتے ہوئے ۔ اور فوجیوں کو نہ بٹھائیں دونوں طرف سے ۔۔ان کے ہاتھ بندوق پر رہے تو ٹھیک ہے ۔۔ کیوں کہ فوجی دماغ ڈسکشن کے لیے نہیں بنا ہوتا ۔۔ چاہے بھارتی ہو یا پاکستانی ۔۔ اس لیے ٹاک شوز میں ایک طرف دیپک کپور کو اور دوسری طرف پاکستانی ریٹائرڈ جنرلز کو بیٹھا پر کر آپ صرف ریٹنگ اور یو ٹیوب کے ویوز ہی مل سکتے ہیں ۔۔ اگر یہی مقصد ہے تو پھر جو کر رہے ہو کرتے رہو۔دوسرا حل یہ ہے کہ بھارتیوں کی پاکستانی لوگوں سےمحبت مطلب کامن لوگوں کی ۔۔ کامن لوگوں کی طرف اٹریکشن خصوصا نوجوانوں کی۔۔ اس کو مائنڈ مینی پولیشن کے لیے استعمال کریں ۔۔ سب سے زیادہ آسان کام ہے یہ ۔۔ اگر کوئی سوچے ۔ تبدیلی جنگ یا بندوق سے نہیں آتی ۔۔ ہاں جب تبدیلی نہیں آتی تو پھر بندوق اور جنگ ہی آتی ہے ۔۔ یہ بھارت کو سمجھ لینا چاہئے ۔۔
پوسٹ – 2016-11-02
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد