رائٹرز ورکشاپ میں، ایک صاحب سے جب پوچھا گیا
بھائی، کیوں اتنی جذباتیت لکھتا ہے کیا تکلیف ہے، اتنی نرم باتیں، اتنے جذبات نگاری، اتنی افسانویت ، ودف بروnnجواب سنو آگے سے بغیرت کاnnمیرے لفظ ، کیفیات نہیں آنکڑے ہیں ، کیفیات سے عاری ہیں ، اور انہیں میں ایسے پھینکتا ہوں جیسے سگریٹ کا دھواں ،یعنی اتنا عمومی سمجھتا ہوں ۔ اس لیے کہ میں خود کو لکھاری یا مصنف یا ادیب کچھ بھی نہیں سمجھتا ، سمجھتا اس لیے نہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ میں نہیں ہوں ۔۔ ہاں چند لفظوں کو موڑ توڑ کر ایک جوکر سی قلابازیاں لگا لیتا ہوں تو شاید کچھ عورتیں کچھ لڑکیاں ان سے متاثر ہوجاتی ہیں ۔۔ اب سمجھ لو کہ ایسی پوسٹ یا تحاریر ، اور ایسے الفاظ کا مقصد بس یہ باور کروانا ہوتا ہے کہ میری ساری گلابی کلر کی نرم نرم پوسٹس کا واحد مدعا، عورتیں گھیرنا ہوتا ہے ، جب آئے ، جہاں آئے ، جتنی آئیں ، حسب توفیق اور حسب گنجائش ، مجھے پرابلم نہیں nخواتین نوٹ فرمالیں ، میں دنیا کی تمام عورتوں سے محبت کا قائل ہوں ، ہاں اس کے اظہار کے طریقے ، میری محبوبہ یا محبوباوں کے ریسپانس پر ڈیپنڈ کرتا ہے nمیری عادت نہیں ہے خود کسی کو گھیرنے کی گھیرنا کیا ہوتا ہے ایک بار کہدوں کہ اچھی لگتی ہو توجہ چاہتا ہوں اگر جواب مثبت مل جائے تو لپٹ جاتا ہوں ۔۔ نہ ملے تو کیچڑ کردیتا ہوں ، عورت کو نہیں ، اپنے ارادے کو– nاور پھر وہ عورت یا لڑکی میرے لیے ایک گرد وغبار کی سی ہوجاتی ہے ،جو میرے آگے بڑھتے قدموں سے لپٹ کر معدوم ہوتی چلی جاتی ہے۔۔
ایسی پوسٹس یا تحاریر میں سے آدھے الفاظ کا مجھے مطلب بھی نہیں پتا nہاں مقصد واضح کردیا کہ تاکہ کوئی مجھ پر کسی قسم کا الزا م نہ رکھے ۔۔
میں بانہیں کھول کر بڑھتا نہیں ہوں ، کھڑا رہتا ہوں۔ کوئی لپٹے تو صدقے ، نہ لپٹے تو بانہیں کسی اور کے لیے خالی رہتی ہیں۔۔
اس کی وجہ ڈھٹائی کا غیر جذباتیت نہیں۔۔ بس یہ ہے کہ مجھے محبت نہیں ہوتی ۔ عادت ہوتی ، ہے ضرورت ہوتی ہے ، لگاوٹ ہوتی ہے۔۔nnشٹ شٹ ، اب بھی اگر کوئی، عمیرہ احمد فین لمڈیا، ایسے لکھاریوں کے واری صدقے جاتی ہے، تو پھر اسے ‘ہراسمنٹ’ کا پرچہ نہیں دینا چاہیے
پوسٹ – 2021-05-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد