پوسٹ – 2021-05-27

عمومی ، نفسیات میں، بہت سے ڈیفینس میکینیزم ہوتے ہیں، جن میں سے ایک ہوتا ہے، ‘ڈینائل موڈ’nاب یہ بہت کارگر ہوتا ہے، لیکن مہلک ہوجاتا ہے، جب حد سے بڑھ جائے، nظاہر ہے، جب نفسیات کی، دفاعی قوت کو حد سے زیادہ اسلحہ مل جائے اسے زیادہ سر پہ چڑھا لیا جائے،، تو اس نے بدمعاشی کرنی ہی ہوتی ہے، داخلی ہو یا خارجی، کنٹرول ، ہاتھ سے جائے تو اسے ہی ابنارملٹی کہتے ہیں
خیر تو ڈینائل موڈ کا سین یہ ہے کہ
اگر کسی شخص کی اپنی نظروں میں وقعت نہیں ہوگی ، اسے پتہ ہوگا کہ وہ انتہائی کھوتا دماغ، بدصورت یا منافق، یا کسی اور سینس میں کم تر ہے (جیسے اکثر پاکستانی کھوتا دماغ ہوچکے ہیں)nتو، اس کی نفسیاتی اور ذہنی بقا کا تقاضا ہے، کہ اس کا ڈینائل موڈ حد سے زیادہ ایکٹو ہو کر، nاسے درج زیل کام کرنے پہ مجبور کرے
کھوتا دماغ ہے تو، خود کو ٹیلنٹڈ کہنا ، خود کو زندہ قوم کہتے رہنا۔
زاتی زندگی میں دین۔ کی سمجھ بوجھ سے عاری ہے ، پجاری ٹائپ ہے تو، خود کو، اسلامی کہتے رہنا
ںدصورت ہے تو مغرور یا بدتمیز ہونا
مختلف صلاحیتوں سے عاری ہے تو ، عام کی زندگی کو، پرسکون اور مکمل سمجھ کر دوسروں پہ انگلی اٹھاتے رہنا، کہ تمھارے پاس کیا ہےnnاسی طرح nاپ اپنی مرضی سے کسی ملک سے باہر چلے جاو،وہاں کی شہریت ٹرن ڈاون کردس، تب آپ کو زیادہ کیوں یاد آتا ہے اپنا ملک ؟ تب آپ کو ان سے بھی زیادہ خارش ہوتی ہے، جو موجود ہوتے ہیں، ملک میnnوجہ ؟nnنفسیاتی طور پر معلوم ہوتا ہے،کہ جڑیں کٹ چکی ہیں شناخت کی لیکن انا کو جیتنے کی عادت ہوتی یے، اور بقا اسی میں لگتا ہے، کہ ہر اس شخص کو ڈینائی کرو جو کہے ہہ تمھارا کوئی کنسرن نہیں،
تو بس پھر، نفسیات کا محکمہ دفاع، پاگل ہو کر، ہر کسی پہ گولیاں برسانے لگتا ہے۔۔nnاسی طرح خصوصا پاکستانیوں کو
کہہ کر دیکھیں
تم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو ہا
پاکستانی آمریہ منافقستانnnایک اور مثال، پاکستان کی اکثر خواتین کے منہ ٹیڑھے ہوں لیکن نخرے پورے ہوتے ہیں،n(یہ ان کی ظاہری ، شکل و صورت پہ نہیں کہہ رہا ، تو بہن کے آنچل کی محافظت سے گریز کریں)nnخیر، تو آپ کا کیا خیال ہے ؟
یہ nعورتیں، اس وجہ سے سختی سے پیش آتی ہیں یا نخرے دکھاتی ہیں کہ
دین میں ایسا ہی حکم ہے نامحرم سے گفتگو کے دوران ؟ یعنی ۔۔
اگر ضرورت پڑے تو سخت سپاٹ اور دو ٹوک لہجہ ہونا چاہئےnnاچھا ان میں سے بہت سیوں کو پتا بھی نہیں ہونا
کیوں کہ ان کا دین بلکہ مذہب n’میں پاکیزہ کردار ہوں’nتک ہی ہے بس
وہ بھی موسٹلی سوشل پریشر کی وجہ سے۔
میں سب کی بات نہیں کرتا ، کیوں کہ ، جسے پتا ہوگا، وہ ںہت باصلاحیت ہے، اپنی فیوریٹ ہوگی،جانتی ہوگی مجھ میں فلاں فلاں گن ہیں، تو اس کا منہ ٹیڑھا یا درشت نہی ملےگا، یا ملا بھی تو اسے دین کا حکم معلوم ہوگا، اور ٹھئک ہےہوگا پھر، nپر اکثر کی یہی حالت ہے کہ سر جھاڑ منہ پھاڑ، منہ نہ متھا، جن پہاڑوں لتھا۔، تو پھر یہ کیوں منہ بنا کر رکھتی ہیں ؟
جواب جاننے۔ کے لیے،تحریر دوبارہ پڑھیں۔
پھر ان کا گرم توے پہ اچھلنا دیکھنا۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.