خود پسند کا شکنجہ – Narcissistic Personality Disorder – NPDnnتیسویں قسطnnنارسسٹ کا جعلی خوش اخلاق ماسک اور گیس لائٹنگnnنارسسٹ ذہنی مریض ، محض آپ کو ہی گیس لائٹ نہیں کرتا، بلکہ عوام کو بھی کرتا ہے ، اپنا اچھا چہرہ دکھا کر
اکثر ایسے جملے ادا کرتا پایا جاتا ہے n“دوسروں کے ساتھ بھی تو میرا رویہ ٹھیک ہے ، تم سے کوئی دشمنی ہے ؟
تو بجائے سوچ میں پڑنے کے ، یہ سمجھ لیں ، کہ وہ دوسروں کے ساتھ “ٹھیک رویہ” محض نقاب کے طور پر استعمال کررہا ہے nاور nاگر آپ کی جان ، ایسے شخص سے چھوٹ چکی ہے ، یعنی اس نے آپ کی کیفیات کا کچرا کرکے آپ کو مکمل ردی کرکے چھوڑدیا ہے ، تب بھی خودکو خوش قسمت سمجھیں
کیوںکہ ، بہت سے بدقسمت ایسے ہیں ، جو ، آج بھی ، ایسے نرگسیت پسندوں سے تعلق میں ہیں ، ان کے شریک حیات ہے ، ان کے ساتھ رہتے ہوئے بچوں کی پرورش کررہے ہیں ، nبہت سے ایسے لوگ ہیں ، انہیں آج بھی نہیں پتا کہ ، ان کے تعلق میں حقیقی ، ذہنی مریض کون ہے ، نرگسیت/خود پسندی کا شکار کون ہے nلیکن ظاہر ہے بے وقعتی کا مرحلہ انہیں سمجھا دے گا
بہت سے ایسے ہیں ، جو نارسسٹ کے ذہنی مرض کے لیے “سپلائی” کا کام کرتے ہیں ، سپلائی یعنی ، آپ کی شخصیت سے اسے ، اپنی نرگیست کے لیے پرلطف کیفیات ملتی ہیں ، سپلائی یعنی وہ آپ کو “توشے” کے طور پر استعمال کرتا ہے ، nاور ایسے افراد کو پتا تک نہیں چلتا کہ ، نارسسٹ کے نقاب کے پیچھے اصل چہرہ کیا ہے ؟
اکثر پاکستان جیسے مذہبی منافق معاشروں میں ، جب آپ بے وقعت کردئے جائیں ، مسترد کردئے جائیں ، تو ذات برادری ، خواہ آپ کی ہو یا نارسسٹ کی ، گھٹیا افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ ، وہ نارسسٹ کی سائڈ پر رہیں ،خصوصا اس کے دوست اور اس کے خاندان والے n“ہمارے فرد کو سات خون معاف ہیں “nایک کیس سٹڈی میں ، یہ جملہ سننے میں آیا ۔
قطع نظر اس کے ، کہ یہ جملہ لڑکی والوں کا تھا یا لڑکے والوں کا ، nپوائنٹ از جانتے بوجھتے اس طرح کی بات کرنا ، اپنے “نارسسٹ” فرد کو سہارا دینا ہے nnحتی کہ ، دوسرے فریق کے گھر والوں کو بھی ، نارسسٹ اور اس کے گھروالے ، گیس لائٹ کر کر کے اپنے فرد کو مظلوم ثابت کردیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ، عرصہ دراز سے نارسسٹ پارٹنر کا رویہ ، اپنوں اور دوسرے کے گھر والوں کے ساتھ ، مطمئن حد تک ، فریبی دھیما یا بظاہر اچھا رہا ہوتا ہے ۔
جو کہ بعد میں ، اپنے “شکار” کو نفسیاتی مریض قرار دینے میں بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ ، نارسسزم یعنی ، خود پسندی کے ذہنی عارضے کا شکار فرد ، صرف اپنے پارٹنر کی گیس لائٹنگ نہیں کرتا، وہ ، ہر شخص کی کرتا ہے ، اپنے بظاہر اچھے اخلاق اور مسکراتے چہرے ، سے وہ “شکار” کو گلٹ / پچھتاوے میں ڈالتا ہے ، پبلک کے سامنے ۔
ہر وہ شکار جو اس کے خلاف بولنے کی کوشش کر ے۔
ایسے ہی معاشروں میں ، اس قسم کے ، نارسسٹ مریض ، نفسیاتی مریض ، بالکل ، سیریل کلرز کی طرح ، اپنے ، جرائم پہ خود کو معصوم گردانتے nہوئے ، بے نقاب ہونے سے بچے رہتے ہیں nکیوں کہ ، ایسے مذہبی طو ر پر متعفن معاشروں میں جیسا کہ پاکستان ہے ، وہاں ، سماج ہر اس شخص کو ، ررسوا کرتا ہے جو ، نارسسسٹ کے خلاف بات کرے ، nکبھی ، حقوق العباد کے نام پر ، کبھی سیاسی /اسلامی کارکنوں کے تعلقات کے نام پر ، کبھی عفو درگزر / عیب پوشی کے نام پر ، کبھی ، بڑوں کی عزت کے نام پر ، بس سمجھوتے کے نام پر ، یہ سوسائٹی ہر اس شخص کو رسوا کرتی ہے جو ، بظاہر اونچے شملے والے نارسسٹ کی ناک رگڑتا ہے nاور اگر وہ شخص جس کا نارسسزم ، سامنے لایا جارہا ہو، وہ اگر کوئی پبلک فگر ہو nکسی فوجی حکمران کو کچھ کہا جائے ، nعمران خان کو کچھ کہہ دیں nنواز کو کہہ دیں nتبلغی جماعت کے کچھ افراد کا نام لے کر کرتوت بتادئے جائیں خصوصا درباری تبلیغیوں کےn مثلا کسی جماعتی کا نام لے کر رگڑ دیا جائے اس کے کرتوت بتا کر ، تو کتے بلے چھوڑ دئے جاتے ہیں nیا مناسب فورم پر بات کریں والی بکواس کی جاتی ہے ، nلیکن جب بل اسمبلی میں پاس ہو تو ان میں آپس میں اینٹ کتے کا بیر ہوجاتا ہے nوجہ ؟ ان کے سوشل نارمز پر ہٹ پڑتی ہے nnاینڈ سو آن ، سب سے زیادہ متعفن اس میں مذہبی جماعتوں کے بت پرست ہوتے ہیں
اس کی وجہ ،دوسروں میں شایدn“میں ٹھیک ہوں کا نشہ “nاور جو مذہبی مریض ہوتے ہیں ان میں ، الگ لیول کی سور والی چربی ہوتی ہے ، یعنی انا پرست nمیرے علاوہ سب جنہمی ، میں جنتی ، میں امتی nمیرےگردے میں سب سے زیادہ امت کا درد nجب کہ ، ان کے اندرونی حمام اتنے ننگے اور متعفن ہوتے ہیں کہ ، یہ موضوع کہیں اور نکل جائے گا
سو ، بات یہ ہوتی ہے کہ ، ایسی بت پرست جماعتوں کے بت پرست ، بجائے اپنے گھروں میں سوال کرکے ، سامنے والے پر الٹ پڑتے ہیں nپھر مظلومیت کے آنسو بہت اچھا ہتھیار ہوتے ہیںnnبس ہوتا کیا ہے کہ ، نارسسٹ کی اک بنیادی ضرورت ہوتی ہے کہ ، اس کے چہرے ۔ نقاب نہ سرکنے پائے nاس کے بے نقاب ہونے کا ذرا سا بھی شائبہ ہو ، تو اس کوشش کو ، قالین کے نیچے دبا دیا جاتا ہے – nجب کہ ، ان کے شکار کی کہانی سننے کے بجائے ان کا منہ بند کرنے پر زور دیا جاتا ہے
کہ اوپر بتایا
اس کام میں برسوں لگ سکتے ہین کہ ، آپ کسی نارسسٹ کا نقاب نوچیں nکیوں کہ ، اس دوران آپ کو ، بے شرم ، بے غیرت، احسان فراموش، گھٹیا ، اس کا کوئی کام پھنسا ہوگا اس لیے ذاتی حملے کررہا ہے ، کہہ کہہ کر دبایا جائے گا
اکثر مشن بیسڈ ادارے جو ، اسلامی جماعت وغیرہ کے زیر اثر ہوتے ہیں ، ان میں ایسا ہی ہوتا ہے nاس بارے میں nFarhan Zafar کی چشم کشا تحریر اس لنک پر موجود ہے nnhttps://www.facebook.com/FarhanZafarShah/posts/10217809935093852nnجنہوں نے ، اس اسلامی جماعت کے زیر سایہ چلنے والے کافی اداروں ان کی قیادت ، کے انفرادی کردار سے پردہ اٹھایا ہے nیہ مذہبی نارسسزم زعم تقوی ہی ہے nپھر انہیں ، خاموشی سے بلیک لسٹ کردیا گیا nnفرحان ظفر کی اس جرات مند تحریر کا نام nn”مشن بیسڈ ادارے ” ہے nآپ فیس بک سرچ میں یہ لفظ لکھیں
بہت سی اقساط مل جائیں گی ان کی وال پر
پڑھیں اور، ان مذہبی نارسسٹوں کے نشے سے نکلیں ۔nnاگلی قسط میں بات کریں گے کہ nنارسسٹ ، کس طرح مختلف پروفیشنز کے کور میں خود کو چھپا کر ، اپنا شکار ڈھونڈتے ہیں nnاور شعبہ جات بھی ایسے جہاں ، ان کو براہ راست، شکار کی ذاتی نالج تک رسائی ہوتی ہے nجی ہاں آپ صحیح سمجھے nاکثر نارسسٹ ، “ماہر نفسیات” کا نقاب پہنے پائے جاتے ہیں ، پاکستان میں تو خاص طور پر ۔
اس پر تفصیلی بات اگلی یعنی nاکتیسویں قسط میں
پوسٹ – 2021-05-30
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد