خود پسند کا شکنجہ – Narcissistic Personality Disorder – NPDnnاکتیس ویں قسط nnنارسسٹ کا جعلی خوش اخلاق ماسکnnنارسسٹ خود کو ، ایسے شعبوں میں چھپا لیتا ہے جن کا مقصد ، لوگوں کی فلاح بہبود کرنا ہوتا ہے ، لیکن اس شعبے میں ، کسی نارسسٹ کے چھپنے کا مقصد ، اسے وہاں شکار کی مستقل سپلائی چاہئے ہوتی ہے n، جیسے ہی ، ایسا کوئی شخص ، آپ کی شخصی حدود پھاندنے کی کوشش کرے n،اور وہ تمام نشانیاں ، حرکات/کرتوت ، ظاہر کرے جو ، ان مضامین میں بیان کئے گئے ہیں ، nآپ کو بہت الرٹ رہنے کی ضرورت ہے ، خصوصیت کے ساتھ ، ایسے ماہر نفسیات ، جو ، اللہ رسول ، دعائیہ کلمات ، یا غیر ضروری محبت کا ڈھکوسلا کرتے ہوں ، جن کا مقصد صرف اور صرف ایک مخصوص طبقے یا صنف کی کہانیاں ، کچی پکی روداد سن کر، انہیں ، محض ایک سائڈ دکھانا ہو، جب کہ ان کے اطراف کے کولیگز، ان کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد ان کا نقاب اترنے کے بعد ، انہیں منافق کہتے ہوں nیاد رکھیں ، فیس بک وغیرہ پر ایسے گھات لگائے شکاری بہت ہیں ۔
ان کا شکنجہ ، ، شفقت، دعائیہ کلمات، احادیث، گھسے پٹے نفسیاتی داو پیچ کے ذریے ، اپنا سوشل پروف/ اچھی سماجی ساکھ کے نیچے چھپا ہوتا ہے اور بہت سے لوگ گمراہ ہوتے چلے جا رہے ہوتے ہیں ، کیوں کہ جنرلی عوام کھوتا دماغ ہوتی ہے ، جو چار میٹھی باتیں کرے ، دو تین احادیث / آیات کوٹ کردے ، چند نرم الفاظ اور، غمگساری کرے ، اسے جانے سوچے سمجھے بغیر اس کے پیچھے تھوتھنیا لٹکائیے بھاگ پڑتی ہیں ، اور ماہر نفسیات ، نارسسٹ اس چیز میں تو ماہر ہوتا ہے nتو اگر کوئی لائنسس یافتہ پروفیشنل ہو ، خواہ اس کی کتنی عزت ہو ، کتنا محترم مانا جاتا ہو، یہ چیز ، ہرگز ہرگز اسے ، ، نارسسٹ ہونے سے نہیں روک سکتی ، بلکہ فیس بکی مذہبی نارسسٹ اور ماہر نفسیات تو مزید ہلاکت خیز ہوجاتا ہے جب وہ اپنی انا/مفاد پرستی/گیس لائٹنگ کو nواہ واہ ، خوب اور بے انتہا لائکس کی صورت کامیاب ہوتے دیکھتا ہے nعمومی طور پر بھی، پاکستان جیسےدوغلے سماج میں ، بہت سے ایسے نارسسٹ، “مدد” کے نام پر ایسے شعبوں میں ، گھس بیٹھتے ہیں ، nجہاں وہ مریضوں کی مدد کا ڈرامہ کرر کے اپنے شکار کی سپلائی برقرار رکھتے ہیں nتو اگر آپ کسی بھی طرح کے نارسسٹ کا شکار رہے ہوں اور اب خود کو ٹھیک کرنا چاہتے ہوں ، سپورٹ چاہتے ہوں ، تو بھی ، بہت زیادہ ، انتخاب یعنی nSelectivenہونے کی ضرورت ہے ، کہ کس سے مدد لینی ہے nہوسکتا ہے ، راقم خود نارسسٹ ہو ، لول nاچھا ایک چیز سمجھ لیں ، اگر آپ کی جان چھوٹ گئی ہو ، ان سے ، تو فوری طور پر ان سے بدلہ لینے کی کوشش نہ کریں ، نہ اکے خلاف کوئی مہم چلائیں
یعنی کوئی غیر مفید طریقہ مت اپنائیں nجس سے آپ کی اپنی ذاتی اور شخصی اقدار پر زک پڑے یا قانون ہاتھ میں لینا پڑے nکیوں کہ ، نارسسٹ ، کسی کو بھی بہت آسانی سے بے وقوف بنا سکتا ہے ، ماسک کی وجہ سے ۔
یقین نہیں آتاn“ایک ماہر نفسیات نے بیٹی مار کر خود کشی کی تھی “nاس کے حق میں اس پاکستانی نفسیاتی مریضوں جنہین آپ اور میں “ماہر نفسیات” سمجھتے ہیں ، کھڑ ےہو کرجسٹی فائی کررہے تھے
کسی مذہبی جماعت یا یہ امت کا درد رکھنے والے ، اسلامی جماعت والوں کو شلوار اتاریں تو nان کے منہ سے ایک لفظ نکلتا ہے n“فلاں نفسیاتی مریض ہے “nکیوں ؟
گیس لائٹنگ ۔۔۔ جی ہاں nاس لیے ان کے خلاف ، بہت احتیاط سے کام کرنا پڑتا ہے ورنہ کہ مظلوم کو ، ہی استحصالی بنا کر پیش کردیتے ہیں nچند افراد نے اندر خانے جماعتیوں کے nکے زیر اثر nچلنے والے چند اداروں کے سربراہان کی انفرادی طور پر پھینٹی کی گئی nnیہ جملے سنیں ، جو انہی کے اندر کے افراد کے ہیں
کہ یہ اپنے افراد کا کس لیول کا “کاٹتے” ہیں وہ بھی اسلام کے نام پر ، ان کا رویہ ، کیا ہے ، ان کا پروفیشنل ازم کی کیا اوقات ہے nحتی کہ ، ایک صاحب نے اک بہت ہی جید جماعتی بارے کہا تھا کہ ، یہ میرے فلاں پرجیکٹ مین پیسے کھا گیا nاور کچھ دن پہلے انہیں صاحب کے قصیدے پڑھتا ہوا پایا گیا وہ بندا
وجہ ؟
جماعتی ابو یا چاچا کا ڈنڈا ہوگا ، تو ٹھنڈا ہوگیا جوش، خیر nیعنی یہ اندر سے ایک دوسرے کو اس طرح سپورٹ کرتے ہِں nجن صاحب کی وہ بات کرہے تھے ، ان کے لیے nجہاں دیکھں گے ان کے “تھر” پراجکٹس کی بات چل رہی ہوگی کہ ، بڑا کام کیا ہے بھائی اس ڈاکٹر نے ، دیہی علاقوں میں nابے احسان کیا ہے ، پیسے کھاتا ہے ، کام کرتا ہے nاور فیس سیونگ بھی ہی رہتی ہے ، اور کیا چاہئے کسی nآج کل کے سیاسی ، تخت نشین درویش کو ؟
مشہوری الگ ، خیر nاب وہی بات ، ذاتی طور پر ان کی ڈاڑھیاں کھینچی ہوں تو کہانیاں بہت ہیں ، لیکن صرف اتنی سی بات پر nو ، انباکس میں ایسے میسجز گردش کرنا شروع ہوگئے nاسے روکو ہر چیز فیس بک پر ڈال دیتا ہے nگھر سے تنگ ہے nاسے نوکری نہیں دی گئی اس لیے ایسا کرتا ہے nاب یہ مختلف جملے مختلف افراد کے لیے کہے گئے nآن اے لائٹر نوٹ ، اسلام آباد سے کچھ کھوتی کے بچے مذہبی نارسسٹ جماعتیوں نے مجھے ریکوئسٹ بھیج دی کہ شاید میں ، کسی ایجنڈے پہ ہوں ، مانٹرینگ کرنے آیا تھا بے چارہ چپ چاپ nخیر ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ، nاب آپ ، پالشیوں کے خلاف بول کردکھیں آپ غدار
مولویوں کی کتریں تو آپ کافر
سیاسی مذہبی تو زیادہ بت پرست ہیں
پی ٹی آئی کا سین دیکھ لیں ، مدعا چھوڑ کر پرسنل ہوجاتے ہیں nاس لیے ، بہت زیادہ ، احتیاط سے ان کی کھال اتارنی چاہئے nورنہ آپ ہی کو ، “ابیوزر” بنا کر پیش کردیا جائے گا
کیوںکہ ، ان کا ماسک بہت خوش خلق ہوتا ہے اور وہ آپ کے کنٹرول میں نہیں ہوتاnnبتیس ویں قسط
میں ہم سیکھیں گے کہ ، خود کو سیف سائڈ پر رکھتے ہوئے ان “عوامی” قسم کے مذہبی نارسسٹ/ ماہر نفسیات یا شدید نارسسٹ کو کیسے رسوا کرکے اکسپوز کیا جاتا ہے ۔nnپرسنل ہو ، پروفیشنل ہو ، یا تحریکی ۔
حل ان کا ایک ہی ہے ۔۔
وہ اگلی قسط میں
پوسٹ – 2021-05-30
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد