کافی ٹائم پہلے میں نے کہیں لکھا تھا کہ n”تعصب کے جواب میں ، نرمی حماقت ہے ، اس کا جواب ڈبل تعصب ہے ، nیا پھر ایموشنل بلیک میلنگ .nnتعصب کے جواب میں ڈبل تعصب کی ایک مثال دیتا ہوں nیہ تصویر میں دی گئی پوسٹ ، ، ایک لالوکھیتی دوست کو دکھائی تو اس کا جواب یہ تھا
اس جواب میں مجھے تعصب نظر آیا ، nلیکن پھر یاد آیا کہ اندھے ، تعصب کا جواب ڈبل تعصب ہوتا ہے ۔ اب یہ جواب پڑھیں nnدیکھ یار ایک تو یہ پوسٹ لکھی “قریشی” نے ہے ، اب جو کراچی میں رہتے ہیں وہ جانتے ہیں ، قریشیوں کی باتوں کا برا نہیں منانا چاہئے ، بدعا لگتی ہے ان کی nاب بات سن ، سین یہ ہے کہ ، nمیں کراچی کے علاقے اورنگی ٹاون میں پیدا ہوا، پھر ، نوے کی دہائی میں، کراچی میں ہی رہتے رہتے مہاجر ہوگیے ہم، nوہ کیسے ؟
بھئی، اورنگی سے لالوکھیت ہجرت کرکے، nکیوں ؟
وہاں یہ ڈکیتی نہ مارنے والے، دسروں کی مدد کرنے والے، حق پرستی کی، ٹیوشن اور تراویح پڑھاتے تھے، nتو پھر فوج نے، انہیں، ڈگریاں دے دے کر، عالم فاضل، پڑھے لکھے مڈل کلاس طبقے کی جماعت بنایا، جن میں بہت سے، سکالرز سامنے آئے، مثلا نعیم شری، عبید کے ٹو، طارق چیمبر وغیرہ تو ،بس ہم ہجر ت کرکے لالو کھیت آگئے
اور آج مجھے ، وہاں رہتے ، تقریبا سینتیس سال ہوگئے ہیں nاور میں اس پوسٹ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں nبالکل ایسا ہی ہے nجائیداد کے لیے قتل کرنے کے لیے ، جائیداد ہونا بھی ضروری ہے ، اب اسکوائر فٹ اور گز میں رہنے والے ، مرلہ ، اور ایکٹر کیا جانیں nدشمنی نسل در نسل نہیں چلتی کہ ، نسلیں تو کراچی والوں کی ایم کیو ایم نے ختم کردیں ، نسل ہو تو دشمنی ہو
جاب پر جائیں تو گلی کا دوسرا بندہ ، بھی لے کر جاتے ہیں ، کہ رستے میں موبائل نہ چھن جائے ،
دوسرے شہر جا کر ڈکیتی نہیں کرتے ، کیوں کہ ، ڈکیتی مشکل کام ہے، حصے دار زیادہ، خطرہ زیادہ، پھر اس کے لیےجسمانی مضبوطی درکار ہے، اور یہ گٹکا خور (الطافی پہلوان) دیکھے ہی ہوں گے اپ نے، تو آسان کام یہ ہے کہ ، اور اپنے ہی شہر میں ، بندہ ماردو، موبائل ووبائل چھین لو nمختصر کام، رسک کم ، پیسے زیادہ ،اور کوئی پارٹنر شپ نہیں۔nnنوٹ: میں خود تو “اتنی لال” کرنے کا قائل نہیں ہوں ، لیکن چلو ، خیر ہے
پوسٹ – 2021-06-06
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد