یہ پوسٹ ، مرد افراد کے لیے ہے ، یعنی وہ جو سمجھتے ہیں کہ ، مرد ہونے اور باپ ہونے میں کیا فرق ہے ،nnیہ ان افراد پر فٹ نہیں ہوتی ، جو ، محض اس لیے مرد بنے پھرتے ہیں کہ وہ باپ بن گئے ہیں اور اپنی اولاد کو تن کر رکھتے ہیںnnباپ کی سختی کو فوجی ٹریننگ سمجھیں ۔nnباپ جب تک بیٹے کو اپنا مقابل سمجھتا ہے اوربیٹا باپ کو اپنا دشمن سمجھتا ہے پرابلم رہتی ہے اب وہ مرضی سے شادی کی ہو ، پڑھائی کی ہو یا کیرئر کی ہو ۔ یقین کیجئے مرد کے روپ میں باپ سے مخلص پیکر رب نے اس زمین پر نہیں اتارا ، اس کی سختی کو اینٹی بائیوٹک سمجھیں خصوصی طور پر لڑکوں پہ ہونے والی سختی — کیوں کہ لڑکوں نے مرد بن کر معاشرے کا سامنا کرنا ہوتا ہے ، سختی ہوگی ، رندا پھرے گا تو زمانے میں کچھ کرنے کے قابل رہے گا ، ورنہ نرم و نازک دانشور بنا رہے گا ۔۔ ایک بات اور بیٹا جب نرمی سے باپ کو یہ باور کروادے کہ میں آپ کی اولاد ہوں اور ہر صورت آپ کے دست شفقت تلے رہنا چاہتا ہوں آپ کا حریف نہیں تو بس پھر پدری شفقت جھلکنے لگتی ہے ۔ایک چیز کا خیال رکھیں ۔۔ باپ دنیا کی وہ مخلص ترین روح ہے ، مرد کا۔ وہ اعلی روپ ہے، جسے
ہ بھی کسی جائز یا حلال کام کے لیے کہ اس میں مشیت ایزدی بھی شامل حال ہوتی ہے ، آسان اس لیے بھی ہے کہ باپ، اول آخر، مرد ہوتا ہے اس لیے وہ آپ کا باپ ہوتا ہے اور مرد، ہونا اس یے پوائنٹ آوٹ کیا کہ ، کچھ ، ذہنی مریض کیسز کے علاوہ ، مرد کی اکثریت
فطری طور پر جس چیز کو پسند کرتی ہے، اسے لاجک یا منطق کہتے ہیں
۔۔ مرد اپنے فطری کردار سے جتنا بھی دور چلا جائے وہ لاجک کے آس پاس ہی رہتا ہے بس یہ آپ نے خیال کرنا ہے کہ آپ باپ کو ٹیوشن نہ دیں ، باپ کے استاد نہ بنیں،
بلکہ معصومانہ انداز میں سوال پوچھیں ، ہو سکے تو باپ کے سامنے آنسو بھی بہا لیں ۔۔ باپ سے لاڈ بھی کرلیں شفقت بھی ملے گی اور باپ کی مرضی جہاں ہوجائے وہاں خدا برکتیں برسادیتا ہے ۔۔
یہ بات اس وقت سمجھ آتی ہے جب آپ کا بیٹا آپ کے کندھے سے آلگتا ہے ۔۔
موضوع طویل ہے اسلیے مختصرا اتنا کہوں گا کہ باپ کی سختی اولاد، خصوصا لڑکوں کے لیے معاشرے کے وائرس سے بچنے کا بہترین حفاظتی ٹیکہ ہوتی ہے ۔۔ اس کو فوجی ٹریننگ سمجھ کر پی جائیں ۔۔ اور باپ سے نالاں نہ ہوں ۔۔
پوسٹ – 2021-06-20
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد