ریپ کلچر کا الزام ، لباس ، میڈیا ، فحاشی پر ڈالنے والے ، در اصل یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ، مرد اتنے ہلکے ہوگئے ہیں کہ ، وہ ، ایک چست/ناکافی لباس والی عورت دیکھ کر ، اپنی فطرت مسخ کر بیٹھتے ہیں ، اس میں شک نہیں کہ ، نکاح میں سبقت ، کثرت ازواج کو ، خوام خواہ ہی ، احسن قرار نہیں دیا گیا nلیکن چونکہ ، وہ مشکل راستہ ہے ، تو آسان رستہ یہ ہے کہ ، ریپ ، عورت کی برہنگی پہ ڈال دو، ہاں اس سے مسئلے مسائل پیدا ہوتے ہیں ، لیکن ، مرد کی نفسیات نارمل ہو ، تو ، اس میں “ریپ” کے لفظ سے ہی ناگواری اور نفرت ابھرتی ہے ، مذہبی معنوں میں نہیں ، بلکہ ، شخصی پیمانوں پہ ، اور جو حقیقی مرد ہوتا ہے ، اس کے اندر یہ سوال اٹھتا ہے n”یار مطلب میں اتنا ہلکا ہوں کہ ، فلاں عورت کے جسم کو ، حاصل کرنے کے لیے مجھَے اپنی جسمانی طاقت/ زور زبردستی کرنی پڑے گی “nاب سوچیں ، ریپ طاقت کا اظہار ہے یا شخصی کمزوری کا اعتراف؟
خوددار، حقیقی ، اصیل فطرت، اور حاکم مزاج ، الفا مرد، رے پسٹ ہو ہی نہیں سکتا، اس کی تو اپنی “انا” کے خلاف ہے کہ وہ کسی عورت کو اس کی مرضی کے بغیر حاصل کرے “
پوسٹ – 2021-06-23
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد