پوسٹ – 2021-07-08

مشت خاک نما شودائے کرام سوری شعرا کی محفل میں ، ایک سوال اٹھا، ان کے ہاں صرف سوال ہی اٹھتے ہیں بس ، تبھی تو یہ شاعر ہوتے ہیں لول nخیر ، تو سوال یہ تھاnn”اپنی بےکار اور فروٹ لیس قسم کی ، بے عمل جوانی کو کسی بھی ایک مصرعےمیں بیان کریں ‘nnسارے شودے ، سوچنے لگے ، کیوں کہ ، جب انہیں ، چیلنج میں ڈالا جائے تو ان کی تخلیق مرجاتی ہے — نہ ہی انہیں کوئِ شعر یاد آتا ہے ، nایک صاحب ان سب کی طرف حقارت سے دیکھ کر گویا ہوئے nn” ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے”nnغالب کے اس مصرعے میں ان کی مردار جوانیاں سمونے پر ، ان کی آنکھیں باہر آگئیں ، nپھر جو ، آرٹس کونسل میں ، ان کی بک بک چیں چیں ہوئِ ہے nزود رنج بھی ہوتے نا اکثر ۔
خیر جس نے یہ کہانی سنائِ وہ کہنے لگا nان پنواڑیوں سڑک چھاپوں کی شکلیں دیکھنے والی تھیں ، اس وقت جب ان پر غالب کا مصرعہ تاک کر پھِنکا گیا —

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.