پوسٹ – 2021-07-12

اسلامی جماعت کے ایک طرم خان کی نیچ سی کرپشن یعنی ایمپلائیز کا حق مارنا، پیسے وقت پہ نہ دینا، اور اصرار پہ صلواتیں سنانا ، کو جب سوشل میڈیا پہ ایکسپوز کیا گیا ،وہ بھی جس نے کیا اس کی نفاست کا عالم یہ ہے کہ اس نے نام تک نہیں لکھا، کہ ایک بے غیرت کی وجہ سے اجتماعی ڈیمیج نہ ہو۔۔ nویسے ایسا ایک نہیں ہے ان لوگوں میں
خیر جب اس کی زلت سوشل میڈیا جے ذریعے اس تک پہنچی جس میں نہ نام لکھا تھا ،نہ ہی کوئی ایسا ریفرینس جس سے شناخت ہوسکے، nتو اس کے اندر کا متفعن مذہبی چور اپنے ایک دوسرے حواری سے ہوں گویا ہواnn’ ایک تو یہ ہر چیز سوشل میڈیا پہ ڈال دیتے ہیں’nاو بے غیرت۔۔ تم ایک شخص کا عملی طور پر حق مارو
وہ تمھارا تذکرہ نام کیے بغیر بھی کرے تو تمھیں چڑ آتی ہے nاور آج ترکی کے ابو بنتے ہو بزنس پوائنٹ آف ویو سے، nمجھے منع کر رہا ہے، اس ایمپلائی نے کہ جانے دیں یار ۔ ورنہ نام ادارے کا نام پراجیکٹ کا تذکرہ ضرور کرتا۔ اور ہوسکتا ہے کبھی کر بھی دوں، اگر ان امت کا درد رکھنے والوں کے۔ کان پہ یا ناک پہ جوں نہ رینگی کے ان کے پالتو ایممپلائز کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔۔
اب میں۔ اگر ترکی کے پراجیکٹس کا ریفرینس دے رہا ہوں
اتنا تو آئڈییا ہوگا کہ خالی خولی پھڑیں نہیں ماری ہیں۔nnنوٹ: اسلامی جماعت کے زعم تقوی کے مریض پجاریوں کو
ہیپی رین مبارک۔ لول

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.