اس گھٹیا مائنڈ سیٹ سے نکلیں ، کہ شادی ، دو افراد کی نہیں، بلکہ خاندانوں کے ملاپ کا نام ہے۔ nیہ ، برصغیر پاک و ہند کے منافق معاشرے(خصوصا پاکستانی مذہبی متعفن منافق معاشرے) کا ایک حربہ ہے، جو بڑے کینوس پہ people pleasing کا دوسرا نام ہے۔
وجہ ؟
لڑکا اور لڑکی ، اس قابل ہوں گے کہ ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار نباہ کر سکیں، تو وہ دونوں خاندانوں کو حسب ضرورت خود ملا لیں گے ۔
شادی ایک ادارہ ہے، جس کی ذمے دارانہ اونر شپ مرد، اور جس کی جذباتی مینجیمنٹ ، عورت کی ذمے داری ہے۔
ان دونوں میں سے ایک چیز بھی ، اگر نہیں ہے تو
شادی ، دو افراد کی نہیں، بلکہ خاندانوں کے ملاپ کا نام ہے۔ nیہ جملہ، محض چٹ پٹی گوسپ کے لیے ہے۔
اگر یہ دونوں چیزیں موجود ہیں
تواس جملے کی ضرورت ہی نہیں۔ nیہ خوام خواہ میں، خود کو، ‘ہمیں سب پتا ہے’ باور کروانے کا نام ہے۔
اور دوسروں کی زندگی میں انوالو ہونے کا نام ہے، جو محض بگاڑ لاتا ہے۔۔ خواہ کتنی پرخلوص نیت ہو۔nnاور یہ اس وقت مزید مہلک ہوجاتا ہے، جب طرفین کو گفتگو کی تمیز نہ ہو، کمیونیکیشن کی الف بے تک معلوم نہ ہو، ہمارا تجربہ ہے، ہمیں پتا ہے، زندگی سمجھوتوں کا نام ہے، کے علاوہ کچھ آتا ہی نہ ہو۔
اور انفرادیت، خود انحصاری کی پٹیاں پڑھا پڑھا کر، محض سنگل پیرنٹ چائلڈ تخلیق کئے جا رہے ہوں۔۔
پوسٹ – 2021-07-22
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد