یہ بھیڑیوں کا معاشرہ ہے، nیہ جملہ نامکمل ہے۔
اس میں
محض عورت کی مظلومیت کا راگ الاپا گیا یے nمکمل بات یہ ہے ۔nnگھر کا سربراہ ، بھیڑ بکری ٹائپ ہو ، اپنی نااہلی ، غیر ذمے داری، کو عورتوں کو خود انحصاری کے پردے میں چھپاتا ہو، تاکہ ذمے داری نہ اٹھانی پڑے، اور بنیادی تربیت سے نابلد رکھا گیا ہو، اٹھتے بیٹھتے یہ سبق دیا گیا ہو کہ مرد سویاہوا سانپ ہوتا ہے، جب کہ یہ نہ سکھایا گیا ہو کہ ناگن کا علاج سانپ ہی کرتا ہے، اور ویسے بھی سوئے سانپ کو انگلی نہیں کرتے ۔
، تو معاشرہ بھیڑیوں سے بھر جاتا ہے ۔
پوسٹ – 2021-07-22
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد